ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی نے طارق متین کی ٹویٹ اور اس سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے پیغامات کو غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ یہ اعلامیہ ڈاؤ یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر اشعر آفاق کی جانب سے جاری کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق 20 نومبر 2025 کو ایک ہائی پروفائل وفد نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا دورہ کیا اور یونیورسٹی اس بڑے پیمانے کے ایونٹ کے کامیاب انعقاد پر خوشی کا اظہار کرتی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی وہ ٹویٹ اور پیغامات، جن میں نمبروں کی کٹوتی اور لازمی حاضری سے متعلق دعوے کیے گئے، سراسر غلط، بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ اعلامیے کے مطابق اس حوالے سے یونیورسٹی کی جانب سے کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔
اعلامیہ مزید کہتا ہے کہ غلط معلومات پھیلانے یا تیار کرنے میں ملوث کسی بھی شخص کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ اس ضمن میں یونیورسٹی قوانین کے ساتھ ساتھ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) آرڈیننس اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد و ضوابط بھی لاگو ہوں گے۔