اوگرا کا نوٹس بے اثر، ایل پی جی مہنگی، شہری پریشان

اوگرا کا نوٹس بے اثر، ایل پی جی مہنگی، شہری پریشان

ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ایک بار پھر من مانا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اوگرا کی جانب سے نوٹس اور ہدایات کے باوجود دکانداروں نے ازخود نرخ بڑھاتے ہوئے ایل پی جی کی قیمت 20 روپے فی کلو مزید مہنگی کر دی، جس کے بعد قیمت 250 روپے سے بڑھ کر 270 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایل پی جی کی فی کلوقیمت میں بڑی کمی

میڈیا رپورٹ کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ غیر اعلانیہ طور پر کیا گیا ہے، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے اب تک کسی قسم کی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ سپلائی کم اور ڈسٹری بیوشن اخراجات بڑھنے کی وجہ سے قیمت میں اضافہ کیا گیا، تاہم شہری ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے اسے سراسر منافع خوری قرار دے رہے ہیں۔

‘ہر علاقے کا الگ ریٹ’ شہری پریشان

شہریوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایل پی جی کا کوئی ایک مقررہ نرخ نہیں، ہر علاقے میں الگ الگ قیمت وصول کی جا رہی ہے۔

ایک شہری کے مطابق ’سردیوں سے پہلے ہر سال یہی ہوتا ہے، قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا جاتا ہے، انتظامیہ صرف نوٹس دیتی ہے لیکن عملدرآمد کہیں نہیں ہوتا‘۔

عوام کا کہنا ہے کہ سردیاں شروع ہوتے ہی ایل پی جی کی قیمت تیزی سے بڑھتی ہے اور اکثر 300 روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر جاتی ہے، جبکہ حکومتی ادارے صرف بیانات تک محدود رہتے ہیں۔

انتظامیہ کی نااہلی کا شکوہ

شہریوں نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ کی غفلت اور کمزور کارروائی کے باعث ہر سال یہی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ ’انتظامیہ صرف کاغذی کارروائی کرتی ہے، مارکیٹ میں کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں۔ اگر آج قیمت 270 ہے تو ایک ماہ بعد 300 سے اوپر چلی جائے گی‘۔

مزید پڑھیں:اوگرا نے عوام کو خوشخبری سنادی، ایل پی جی 20 روپے کلو سستی

اوگرا کا نوٹس بے اثر کیوں؟

اقتصادی ماہرین کے مطابق ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا بڑا سبب مارکیٹ کی بے ضابطگیاں، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری ہے۔ اوگرا کی جانب سے قیمتوں کا تعین تو کر دیا جاتا ہے، مگر اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے سبب عوام کو ہر سال مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

متعلقہ حکام کے مطابق اگر مؤثر مانیٹرنگ نہ کی گئی تو سردیوں میں ایل پی جی ایک بار پھر 300 روپے فی کلو سے تجاوز کر سکتی ہے۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مصنوعی مہنگائی کے ذمہ داروں کے خلاف سخت اقدامات کرے تاکہ موسمِ سرما سے قبل عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *