پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے کی ابتدائی رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں حملے کے محرکات، دہشتگردوں کی نقل و حرکت اور فورسز کے بروقت ردعمل سے متعلق اہم معلومات شامل کی گئی ہیں۔
پولیس رپورٹ کے مطابق پہلا خودکش حملہ آور پیدل سنہری مسجد روڈ کی جانب سے ایف سی ہیڈ کوارٹر کے مرکزی گیٹ تک پہنچا۔ حملہ آور نے چادر اوڑھ رکھی تھی تاکہ اس کی شناخت مشکل ہو جائے۔ وہ جیسے ہی مرکزی گیٹ کے ناکے پر پہنچا اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں 3 ایف سی اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق دھماکہ شدید نوعیت کا تھا تاہم مرکزی گیٹ کو نقصان نہیں پہنچا۔
دھماکے کے فوراً بعد شلوار قمیض پہنے مزید 2 خودکش حملہ آور سائیڈ گیٹ سے ایف سی ہیڈ کوارٹر کے اندر داخل ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں حملہ آور رائفلوں اور دستی بموں سے لیس تھے۔ اندر داخل ہوتے ہی وہ دائیں جانب مڑے اور موٹر سائیکل اسٹینڈ تک پہنچے جہاں انہوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
فورسز نے فوری جوابی کارروائی کی اور پوزیشن سنبھالتے ہوئے دونوں دہشتگردوں کو مرکزی گیٹ سے تقریباً 30 سے 40 میٹر کے اندر ہی مار گرایا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق دہشتگردوں کا بنیادی مقصد ایف سی اہلکاروں کو یرغمال بنانا تھا تاکہ ہیڈ کوارٹر میں بھاری جانی نقصان کیا جا سکے۔ اس وقت ہیڈ کوارٹر میں اعلیٰ افسران موجود تھے جبکہ بڑی تعداد میں نفری بھی ڈیوٹی پر تعینات تھی۔
رپورٹ کے مطابق حملے کے وقت ایف سی ہیڈ کوارٹر میں پریڈ بھی جاری تھی، جس سے صورت حال مزید حساس ہو گئی تھی۔
ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا اور ایف سی ہیڈ کوارٹر کو مکمل طور پر کلئیر کر دیا گیا ہے۔ مزید تحقیقات اور فرانزک عمل جاری ہے جبکہ دہشتگردوں کی شناخت کے لیے مختلف ادارے باہمی رابطے میں ہیں۔