صوبہ خیبر پختونخوا کے دارلحکومت پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی )، صدر کے ہیڈکوارٹر پر پیر کی صبح دہشتگردوں نے اچانک خود کش حملہ کر دیا،جس سے 3 دہشتگرد ہلاک، ایف سی کے 3 پولیس جوان شہید 2 زخمی ہو گئے ہیں، ایف سی جوانوں نے خوارج دہشتگردوں کا بڑا حملہ ناکام بنا دیا ہے۔
سی سی پی او میاں سعید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے پیر کی صبح 8 بج کر 11 منٹ پرفیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی ) کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا، ایک حملہ آور نے خود کوگیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا، دوسرے 2 دہشتگردوں نے گیٹ سے اندر گھسنے کی کوشش کی تاہم ایف سی کے بہادر جوانوں نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی اور انہیں گیٹ پر ہی ہلاک کردیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس دھماکے کے نتیجے میں ایف سی کے 3 جوان شہید ہو گئے ہیں جن کی لاشیں سی ایم ایچ اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں جبکہ دیگر 2 زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال پہنچا دیا گیا ہے، جہاں اسپتال کے ترجمان کے مطابق زخمیوں کی حالت تسلی بخش ہے۔ شہدا میں حوالدار عالمزیب خان، سپاہی ریاست خان اور سپاہی الطاف خان شامل ہیں، جن کا تعلق پلاٹون 277 اور 478 سے ہے۔
ادھر انسپکٹر جنرل (آئی جی) ذوالفقار حمید کے مطابق ایف سی ہیڈ کوارٹر پر 2 خود کش دھماکے کیے گئے ہیں، ایک دھماکا ایف سی کے مین گیٹ کے قریب کیا گیا اور دوسرا موٹر سائیکل اسٹینڈ کے قریب ہوا ہے، دونوں حملہ آور مارے گئے ہیں جبکہ دھماکے کے دوران ایف سی کے 2 جوان زخمی ہوئے ہیں۔
سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے حملہ خود کش تھا۔ دہشتگردوں نے دھماکہ ’ایف سی‘ ہیڈ کوارٹر کے مین گیٹ پر کیا، انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے۔ اہلکاروں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ریسکیو ٹیمیں بھی بروقت موقع پر پہنچ گئی ہیں۔ ابتدائی طور پر زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، دھماکے سے سیکیورٹی پر مامور پولیس جوان زخمی ہوئے ہیں، عینی شاہدین کے مطابق حملے کے بعد کم از کم 2 دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جبکہ فائرنگ کی آوازیں بھی وقفے وقفے سے جاری رہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان مقابلہ جاری رہا۔ سنہری مسجد روڈ کو بھی ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
ادھر ڈپٹی کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری جاوید اقبال نے بتایا کہ تینوں خودکش حملہ آور مارے گئے ہیں، فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں نے بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا، خودکش حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 اہلکار شہید ہوئے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق حملے میں 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے، حملے میں 2 ایف سی اہلکار اور 3 شہری زخمی ہوئے ہیں، تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی حالت تسلی بخش ہے۔
ڈپٹی کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ سیکیورٹی ادارے واقعے کی نوعیت اور حملہ آوروں کی تعداد سے متعلق مزید تفصیلات جمع کر رہے ہیں، جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے۔