بھارت کی تینوں مسلح افواج کے سربراہان چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل دنیش کے تریپھاٹی، ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ، اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اوپندر دویدی نے منگل کو سینیئر فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے مستقبل میں مشترکہ سمندری و فضائی جنگی حکمت عملی اور مشترکہ آپریشن پر زور دیا ہے۔
آزاد ریسرچ کے مطابق سرکاری مؤقف کے مطابق مسلح افواج کے اس اجلاس کا مقصد بظاہر تینوں بھارتی مسلح افواج کے درمیان مستقبل کے کسی بھی جارحانہ آپریشن کے لیے ’فوجی ہم آہنگی‘ کو فروغ دینا تھا، مگر دفاعی مبصرین اسے حالیہ ’آپریشن سندور‘ میں ذلت آمیز ناکامی کے بعد کی ’ڈیمیج کنٹرول ‘ کوشش قرار دے رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ تینوں افواج کے سربراہان کی قیادت میں یہ مشترکہ اجلاس ایک غیر معمولی مگر معنی خیز قدم ہے، جو دراصل اس حقیقت کو بالواسطہ تسلیم کرتا ہے کہ بھارت کی فوجی ناکامی صرف غلط فیصلوں کا نتیجہ ہی نہیں تھی بلکہ تینوں مسلح افواج اور ان کی قیادت کے درمیان رابطے کے فقدان کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔
آزاد ریسرچ کے مطابق ’تھری سروسز انٹیگریشن‘ اور ’جوائنٹ بیٹل اسٹیجنگ‘ پر زور اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ بھارت کی دفاعی حکمت عملی میں جو تبدیلی لائی جا رہی ہے، وہ محض دفاعی نوعیت کی نہیں بلکہ پیشگی حملے اور جارحیت پر مبنی ہے۔
آزاد ریسرچ کے ذرائع کے مطابق بھارت نے اپنی نئی فوجی منصوبہ بندی میں پاکستان کو بنیادی میدان جنگ تصور کیا ہے۔ سمندری اور فضائی شعبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش، بالخصوص ہائبرڈ وارفیئر کی تیاری، بھارت کی جانب سے مستقبل میں ممکنہ بیک وقت نیول اور فضائی حملوں کی تیاریوں کا اشارہ دیتی ہے۔
آزاد ریسرچ کے مطابق عالمی برادری کو اس خطرناک تبدیلی کو محض ’عسکری اصلاحات‘ سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ بھارت جو کچھ ’جدید حکمت عملی‘ کے نام پر کر رہا ہے، وہ دراصل ایک نئے جارحانہ فوجی منصوبے کا خاکہ ہے، جو نہ صرف خطے کے امن بلکہ بین الاقوامی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں بھارت کی جانب سے اسلحہ کی خریداری، جنگی مشقوں اور اب اعلیٰ سطح کی فوجی قیادت کے اس طرح کے مشترکہ اجلاس واضح کرتے ہیں کہ بھارت دوبارہ مسلح ہو رہا ہے، صف بندیاں کر رہا ہے اور ممکنہ جارحیت کی تیاری کر رہا ہے۔
’آپریشن سندور‘ کی ناکامی نے اگرچہ بھارت کے اعتماد کو متزلزل کیا، مگر موجودہ اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نئی دہلی اب نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنا چاہتا ہے بلکہ خطے میں پیشگی حملے کی پالیسی کی بنیاد بھی رکھ رہا ہے۔
عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ اس بڑھتی ہوئی فوجی تیاری کو نظرانداز نہ کریں، کیونکہ یہ بیانات نہیں، بلکہ عملی جارحیت کی راہیں ہموار کر رہے ہیں۔