اسلام آباد: امریکی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک پاکستان میں اپنی پہلی سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروس کے آغاز کے لیے تیار ہے، جو رواں سال کے آخر تک شروع ہونے کا امکان ہے۔
پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق اسٹارلنک نے پاکستان میں ملکی قوانین اور ضوابط کے تحت کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور متعلقہ حکام کے پاس رجسٹریشن کے لیے درخواست بھی جمع کروا دی ہے۔
اس وقت پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ (P-SARB) سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کنندگان کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ اس فریم ورک کی تکمیل کے بعد، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (PTA) کی جانب سے اسٹارلنک کو رجسٹر کر کے عملی لائسنس جاری کیا جائے گا۔
حال ہی میں P-SARB نے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں سیٹلائٹ کمپنیوں کے ساتھ ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر شنگھائی ٹیلی کام، ایمازون اور ون ویب جیسی عالمی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی، تاہم اسٹارلنک پہلی کمپنی ہے جس نے نئے فریم ورک کے تحت باقاعدہ درخواست جمع کروائی ہے۔
رپورٹس میں یہ قیاس بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ایلون مسک پاکستان کے سرکاری دورے پر آ سکتے ہیں تاکہ اسٹارلنک کی سروس کا باقاعدہ افتتاح کیا جا سکے۔
اسٹارلنک پہلے ہی جنوبی ایشیا کے کئی ممالک میں کام کر رہی ہے، اور پاکستان میں اس کے آغاز سے دور دراز اور انڈر سروسڈ علاقوں میں انٹرنیٹ تک رسائی میں بہتری کی امید ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسٹارلنک پاکستان کے ڈیجیٹل وژن کو فروغ دے گی، نئی آمدنی کے مواقع پیدا کرے گی اور معاشی ترقی میں مدد دے سکتی ہے۔ حکام نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے کہ اسٹارلنک کی سروس کسی بھی قسم کے سیکیورٹی خطرے کا باعث نہیں ہے۔