پاکستان کی فنون لطیفہ کی تاریخ میں لازوال مقام رکھنے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ لیجنڈ اداکار معین اختر کی 15ویں برسی آج پورے ملک میں عقیدت، محبت اور احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
معین اختر 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بچپن ہی سے اپنی غیر معمولی ذہانت، حاضر جوابی اور مزاحیہ انداز سے لوگوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ صلاحیتیں ایک ایسے فن میں ڈھل گئیں جس نے انہیں برصغیر کے عظیم ترین اداکاروں میں شامل کر دیا۔
ٹیلی ویژن کی دنیا میں ان کا سفر ایک انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ معین اختر نے مزاح کو صرف ہنسی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس میں سماجی حقیقت، طنز اور گہری سوچ کو بھی شامل کیا۔ ڈرامہ سیریل روزی میں ان کی اداکاری نے ناظرین کو حیران کر دیا اور انہیں شہرت کی نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔
ان کے یادگار ڈراموں میں آنگن ٹیڑھا، انتظار فرمائیے، ہاف پلیٹ اور اے ٹرین جیسے شاہکار شامل ہیں۔ ہر کردار میں ان کی نئی اداکاری، نیا انداز اور منفرد مکالمے انہیں دوسروں سے ممتاز بناتے رہے۔ ان کا ہر منظر ناظرین کے لیے ایک یادگار لمحہ بن جاتا تھا۔
اسٹیج کے میدان میں بھی معین اختر نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے لائیو شوز نے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت اور دنیا بھر میں بھی دھوم مچا دی۔ بوڑھا گھر پر ہے، یسر عید نوسر عید اور بکرا قسطوں پر جیسے اسٹیج شوز آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ ان کے جملے اور انداز گفتگو آج بھی نقل کیے جاتے ہیں۔
معین اختر صرف ایک اداکار نہیں تھے بلکہ ایک مکمل ادارہ تھے۔ وہ بیک وقت کامیڈین، میزبان، نقاد اور سماجی مشاہدہ رکھنے والے فنکار تھے۔ ان کا فن وقت کی حدود سے آزاد تھا اور آج بھی نئی نسل ان سے سیکھتی ہے۔
معین اختر 22 اپریل 2011 کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے مگر ان کی مسکراہٹ، ان کے کردار اور ان کی فنکاری آج بھی زندہ ہے۔ وہ آج بھی اپنے مداحوں کے دلوں میں اسی طرح موجود ہیں جیسے وہ کبھی اسٹیج اور اسکرین پر نظر آتے تھے۔