سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی اصل وجہ سامنے آگئی، 12 گھنٹوں میں کھربوں ڈالر ڈوب گئے

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی اصل وجہ سامنے آگئی، 12 گھنٹوں میں کھربوں ڈالر ڈوب گئے

مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں اور تیزی سے سامنے آنے والی نئی پیش رفت نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں صرف 12 گھنٹوں کے دوران عالمی منڈی کی مجموعی مالیت میں تقریباً 1.1 کھرب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس اچانک مندی کے اثرات قیمتی دھاتوں تک بھی پہنچے اور سونا و چاندی اپنی حالیہ تیزی برقرار نہ رکھ سکے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت شدید بے چینی کا شکار ہیں کیونکہ مصنوعی ذہانت کی رفتار توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف صنعتی اور دفتری ڈھانچوں کو بدل دے گی بلکہ روزگار کے روایتی مواقع، ادارہ جاتی منافع اور عالمی معاشی استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمتوں میں مسلسل کمی کی بعد بڑا اضافہ ہوگیا،فی تولہ کتنے کا ملے گا؟

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک تفصیلی تجزیے میں کہا گیا کہ مصنوعی ذہانت کو اب صرف پیداواری صلاحیت بڑھانے والے آلے کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا بلکہ اسے ایک ہمہ گیر معاشی جھٹکا تصور کیا جا رہا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق ماضی کی صنعتی یا تکنیکی ترقی عموماً مخصوص شعبوں تک محدود رہتی تھی، مگر مصنوعی ذہانت بیک وقت کئی شعبوں میں تبدیلی لا رہی ہے۔ خاص طور پر پروگرامنگ، تحقیق، مالیاتی تجزیہ، قانونی مشاورت اور نظام کی خودکاری جیسے ذہنی و دفتری کام تیزی سے اس کے زیر اثر آ رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں حالیہ دنوں میں نئی مصنوعات اور نظاموں کے اجرا کے فوراً بعد حصص بازاروں میں غیر معمولی مندی دیکھنے میں آئی۔

اطلاعات کے مطابق رواں برس متعدد مواقع پر جیسے ہی مصنوعی ذہانت کے جدید آلات یا ماڈلز کی بہتری کا اعلان ہوا، اُن کمپنیوں کے حصص فروخت ہونے لگے جن کے کاروباری ڈھانچے کو خودکار نظاموں سے خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔ اس فروخت کے دباؤ کے باعث بڑی عالمی کمپنیوں کی مشترکہ منڈی مالیت میں کھربوں ڈالر کی کمی واقع ہوئی، جس کے اثرات ایشیائی ابھرتی معیشتوں تک محسوس کیے گئے۔

مزید پڑھیں:’اے آئی کا استعمال‘ پاکستان سے متعلق بڑا انکشاف

قیمتی دھاتوں کی منڈی بھی اس صورتحال سے محفوظ نہ رہ سکی۔ عام طور پر غیر یقینی حالات میں سرمایہ کار سونے اور چاندی کا رخ کرتے ہیں، مگر حالیہ اتار چڑھاؤ میں دیکھا گیا کہ ابتدائی اضافے کے بعد قیمتیں دباؤ کا شکار ہو گئیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت روایتی محفوظ سرمایہ کاری اور نئی ٹیکنالوجی سے وابستہ مواقع کے درمیان تذبذب کا شکار ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے اور مرکزی بینک اس ممکنہ رجحان کا بغور جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کے درمیان کوئی براہ راست تعلق موجود ہے یا نہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق اگر مصنوعی ذہانت سے پیداواری لاگت کم ہوتی ہے تو طویل مدت میں مہنگائی پر دباؤ کم ہو سکتا ہے، تاہم مختصر مدت میں غیر یقینی صورتحال منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہوں گے، کیونکہ سرمایہ کاروں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مصنوعی ذہانت کو خطرہ سمجھ کر دفاعی حکمت عملی اپناتے ہیں یا اسے ایک نئے معاشی دور کی بنیاد مان کر جارحانہ سرمایہ کاری کی راہ اختیار کرتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *