امریکا کے ساتھ براہِ راست کوئی بات نہیں ہوئی، پاکستان کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے، ترجمان ایرانی دفتر خارجہ کی تصدیق

امریکا کے ساتھ براہِ راست کوئی بات نہیں ہوئی، پاکستان کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے، ترجمان ایرانی دفتر خارجہ کی تصدیق

اسلامی جمہوریہ ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اب تک کوئی براہِ راست مذاکرات عمل میں نہیں آئے، البتہ پاکستان سمیت دیگر ثالثوں کے ذریعے امریکی پیغامات موصول ہوئے ہیں۔

تہران میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے خطے کی صورتحال اور سفارتی پیش رفت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔

ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ اب تک امریکا کے ساتھ جتنی بھی بات چیت ہوئی ہے وہ صرف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کی حد تک محدود ہے۔ انہوں نے اس عمل میں پاکستان کے کلیدی کردار کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد کے ذریعے ہی امریکا کی جانب سے مذاکرات کی خواہش کے اشارے موصول ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کی جانب سے امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا شاندارالفاظ میں خیرمقدم، اسلام آباد کا کردار کلیدی قرار

 تاہم ترجمان نے امریکی حکام کے بیانات میں تضاد کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ جب امریکا ایک طرف سفارت کاری کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف جارحانہ رویہ اپناتا ہے تو اعتماد کی فضا بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

ایران نے ان تجاویز اور مطالبات کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جنہیں عالمی میڈیا میں 15 نکاتی مطالبات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ مطالبات انتہائی نامناسب، غیر حقیقت پسندانہ اور غیر منطقی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور طے شدہ فریم ورک کے تحت ہی آگے بڑھے گا اور کسی بھی قسم کے یکطرفہ دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

علاقائی سلامتی پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ایران نے کبھی جنگ کی ابتدا نہیں کی، بلکہ گزشتہ 9 ماہ کے دوران ایران پر 2 مرتبہ اس وقت حملے کیے گئے جب سفارتی عمل جاری تھا۔

انہوں نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ اس نے دونوں مواقع پر دانستہ طور پر مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچایا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو یہ دیکھنا ہوگا کہ اس تنازع کا آغاز کس نے کیا، لہٰذا صرف ایران سے تحمل کا مطالبہ کرنا زمینی حقائق کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا ایران جنگ خاتمے کیلئے پاکستانی کوششیں، وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دورۂ چین کیا رنگ لائے گا؟

بریفنگ کے اختتام پر ترجمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے لیکن اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب 2026 کے آغاز سے ہی خطے میں تناؤ کی لہر برقرار ہے اور پاکستان مسلسل دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلانے کے لیے تگ و دو کر رہا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *