پاکستان افغانستان کے مخصوص علماء کا مشترکہ ‘امن اعلامیہ’:  پاکستانی سر زمین پر افغان دہشت گردی کے تذکرے پر مکمل خاموشی

پاکستان افغانستان کے مخصوص علماء کا مشترکہ ‘امن اعلامیہ’:  پاکستانی سر زمین پر افغان دہشت گردی کے تذکرے پر مکمل خاموشی

پاکستان اور افغانستان کے چند مخصوص علماء کرام کی جانب سے ایک ‘مشترکہ امن اعلامیہ’ جاری کیا گیا ہے، جس کا مقصد خطے میں مذہبی ہم آہنگی اور امن کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔ تاہم، اس اعلامیےمیں پاکستان کے اندر ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی لہر اور اس میں افغان سرزمین کے استعمال کے حوالے سے ایک لفظ بھی شامل نہیں کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے چند مخصوص علماء کی جانب سے ایک مشترکہ امن اعلامیہ جاری کیا گیا  ہے تاہم، اس اعلامیےمیں پاکستان کے اندر ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی لہر اور اس میں افغان سرزمین کے استعمال کے حوالے سے ایک لفظ بھی شامل نہیں کیا گیا۔

جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان دیرینہ سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی تعلقات موجود ہیں اور دونوں ممالک کے عوام مشترک مذہب، ثقافت اور تاریخی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان امن، استحکام اور بھائی چارے کا قیام نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔

ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنا، باہمی اعتماد کو فروغ دینا اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ اعلامیہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام امن، بھائی چارے اور عدل کا درس دیتا ہے اور دونوں ممالک کے علماء اور عوام پر لازم ہے کہ وہ ان اقدار کو فروغ دیں اور کسی بھی قسم کی بدامنی، انتشار اور اختلافات سے اجتناب کریں۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات، تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

علماء کرام اس بات پر متفق ہیں کہ اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو باہمی تعلقات کو نقصان پہنچائیں۔ دونوں ممالک کے عوام اور قیادت کو چاہیے کہ وہ صبر، تحمل اور حکمت کا مظاہرہ کریں۔

ماہرین اور مبصرین نے  نے اس اعلامیے کو “ادھورا اور یکطرفہ” قرار دیا ہے کیونکہ اس میں پاکستان کے ان سنگین تحفظات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے جو مسلسل عالمی فورمز پر اٹھائے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے بارہا شواہد پیش کیے ہیں کہ کالعدم تنظیمیں افغان سرزمین کو پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں، لیکن علماء کے اس ‘امن اعلامیہ’ میں:

 کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں پر کوئی مذمت سامنے نہیں آئی۔افغان حدود سے ہونے والی دہشت گردی اور حملوں پر خاموشی اختیار کی گئی۔  پاکستان میں ہونے والے حالیہ دھماکوں اور فوجی تنصیبات پر حملوں کے تذکرے سے گریز کیا گیا۔

افغانستان کے علماء کرام: 1.شیخ نظر محمد صاحب (افتخاری)، 2.مفتی نجیب اللہ صاحب (منیب)، 3.شیخ حسن اصغر صاحب (مصطفی)، 4.ڈاکٹر فیروز صاحب (ہروی)، 5.شیخ مولوی زادہ صاحب (ہروی)، 6.شیخ مولوی احمد صاحب (زرغانی)، 7.مولوی معتصم اخند زادہ صاحب (کندہاری)، 8.شیخ نصرت اللہ صاحب (علمی)، 9.شیخ سید احمد صاحب (ہاشمی)، 10.شیخ میر فاروق صاحب (نورانی)، 11.شیخ ذاکری صاحب (عراقی)

پاکستان کے علماء کرام:، 1.شیخ الحدیث صاحب (کراچی)، 2.مولانا زاہد الراشدی صاحب (گوجرانوالہ)، 3.مولانا قاری محمد حنیف صاحب (جھنگ)، 4.مولانا حکیم مظہر صاحب (کراچی)، 5.مولانا صلاح الدین ایوبی صاحب (بلوچستان)، 6.مولانا محمد یونس صاحب، 7.مولانا عبد الکریم صاحب، 8.مولانا فضل الرحمن خلیل صاحب، 9.مولانا عبد اللہ شاہ مظہر صاحب، 10.مولانا متی زبیر شاہ صاحب، 11.مولانا پیر عتیق الرحمن صاحب شامل تھے۔

مزید پڑھیں: افغانستان، بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، بھارت بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کی مالی معاونت کررہا ہے، بھارتی کرنل کا اعتراف

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *