فوڈ اسٹالز بند اور مینوفیکچرنگ معطل، مودی کی ناکام پالیسیاں بھارتی معیشت کو لے ڈوبیں، بلومبرگ کی رپورٹ

فوڈ اسٹالز بند اور مینوفیکچرنگ معطل، مودی کی ناکام پالیسیاں بھارتی معیشت کو لے ڈوبیں، بلومبرگ کی رپورٹ

مودی حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور ناکام معاشی پالیسیوں کا شاخسانہ اب بھارت کے عام شہریوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی بھارت میں گیس کا ایک ایسا سنگین بحران پیدا ہو گیا ہے جس نے مودی سرکار کے ’خود انحصاری‘ کے تمام دعوؤں کو خاک میں ملا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے سچ کہا بھارتی معیشت مردہ ہے، راہول گاندھی

امریکی معاشی جریدے ’بلوم برگ‘ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، بھارت میں ایل پی جی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے اور قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے نے مزدور طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دارالحکومت دہلی سمیت کئی بڑے شہروں میں گیس کی عدم دستیابی کے باعث چھوٹے کاروبار اور فوڈ اسٹالز بند ہو رہے ہیں۔ فوڈ اسٹال مالکان یا تو مہنگا متبادل ایندھن استعمال کرنے پر مجبور ہیں یا اپنے کاروبار کو تالے لگا رہے ہیں۔

اس صورتحال نے دیہاڑی دار مزدوروں کو شدید متاثر کیا ہے، جو اب کام نہ ہونے کی وجہ سے شہروں سے اپنے گاؤں واپس جانے پر مجبور ہیں۔

’بلوم برگ‘ کے مطابق، بھارت کی مینوفیکچرنگ صنعت اور دیگر معاشی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جہاں اہم صنعتوں کو خام مال کی قلت اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں:بھارت جنگ کرتا ہے تو اس کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی، سابق بھارتی جج

ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اس بحران کی بنیادی وجہ مودی حکومت کی مجرمانہ غفلت ہے، کیونکہ حکومت کے پاس کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے گیس کا مناسب ‘اسٹاک’ موجود نہیں تھا۔ خلیجی جنگ کے اثرات بھارت میں اس قدر تیزی سے ظاہر ہوئے کہ شہری اب مہنگے سلنڈرز خریدنے اور روزمرہ کے گھریلو اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے۔

واضح رہے کہ مودی سرکار نے بین الاقوامی حالات کو بھانپنے اور پیشگی حفاظتی اقدامات کرنے میں مکمل ناکامی کا ثبوت دیا ہے، جس کا خمیازہ آج بھارت کے 1.4 ارب عوام بھگت رہے ہیں۔ اگر سپلائی چین کی صورتحال فوری طور پر بہتر نہ ہوئی تو بھارت میں عوامی بے چینی اور معاشی ابتری مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔

Related Articles