انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹی 20 ورلڈکپ کے 13 ویں میچ میں افغانستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں بھارت کے شہر احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں آمنے سامنے ہیں جہاں افغانستان نے ٹاس جیت کر جنوبی افریقہ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دے دی ہے۔
میگا ایونٹ کے اس اہم مقابلے میں دونوں ٹیموں کے لیے فتح نہایت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ گروپ مرحلے میں ہر پوائنٹ سیمی فائنل کی دوڑ میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ میچ کے آغاز سے قبل اسٹیڈیم میں شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی اور ماحول جوش و خروش سے بھرپور دکھائی دیا۔
ٹاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کے کپتان راشد خان نے کہا کہ جیت کے لیے ٹیم کو متحد ہو کر کھیلنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاور پلے میں بیٹنگ کا بہتر آغاز اور مڈل اوورز میں مؤثر باؤلنگ کامیابی کی کنجی ثابت ہو سکتی ہے۔ راشد خان نے بتایا کہ ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے اور ضیاالرحمان کی جگہ نور احمد کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا ہے تاکہ اسپن اٹیک کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
دوسری جانب جنوبی افریقی کپتان ایڈن مارکرام نے کہا کہ وہ بھی ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کو ترجیح دیتے، تاہم اب کوشش ہوگی کہ ٹیم ایک مضبوط اسکور بورڈ پر سجائے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیٹنگ لائن اپ بڑے اسکور کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ٹیم میں ایک تبدیلی کرتے ہوئے کوربن بوش کی جگہ آل راؤنڈر جارج لنڈے کو شامل کیا گیا ہے تاکہ بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں شعبوں میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔
میچ کے ابتدائی اوورز میں جنوبی افریقہ کے اوپنرز نے محتاط انداز اپنایا جبکہ افغان باؤلرز نے لائن اور لینتھ برقرار رکھتے ہوئے دباؤ قائم رکھنے کی کوشش کی۔ اسپنرز کے کردار پر خاص توجہ دی جا رہی ہے کیونکہ احمد آباد کی وکٹ عموماً سست روی کا مظاہرہ کرتی ہے جو اسپن باؤلرز کے لیے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق یہ مقابلہ رفتار اور اسپن کے درمیان دلچسپ جنگ بن سکتا ہے۔ جنوبی افریقہ کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ اور افغانستان کے معیاری اسپن اٹیک کے باعث میچ کا پلڑا کسی بھی وقت کسی بھی جانب جھک سکتا ہے۔
شائقین کرکٹ کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا افغانستان کی حکمت عملی رنگ لائے گی یا جنوبی افریقہ بڑا ہدف دے کر میچ پر گرفت مضبوط کرے گا۔ ٹی 20 ورلڈکپ کے اس سنسنی خیز معرکے میں ہر اوور میچ کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دونوں ٹیمیں فتح کے لیے پرعزم دکھائی دے رہی ہیں۔