ملکی سیاست میں ایک اہم اور بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف کے ہم خیال گروپ سے تعلق رکھنے والے کئی نمایاں رہنماؤں نے استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ .
اس سیاسی تبدیلی کو گلگت بلتستان کی سیاست میں ایک نئی صف بندی اور آنے والے دنوں میں طاقت کے توازن میں ممکنہ تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے[نجی ٹی وی کے مطابق پی ٹی آئی گلگت بلتستان کے سابق گورنر، سابق وزیر اعلیٰ اور متعدد سابق وزرا کی وفاقی وزیر اور صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان کی رہائشگاہ آمد کے موقع پر باقاعدہ پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں ان رہنماؤں نے آئی پی پی میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کیا۔
پریس کانفرنس کے دوران گلگت بلتستان کے سابق گورنر جلال حسین مقپون اور سابق وزیر اعلیٰ حاجی گلبر خان نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی[ان کے ساتھ گلگت بلتستان اسمبلی کے سابق قائد حزب اختلاف کیپٹن (ر) شفیع بھی آئی پی پی میں شامل ہو گئے۔
اس کے علاوہ سابق صوبائی وزرا فتح اللہ خان، شمس اللہ حق، حاجی شاہ بیگ اور دلشاد بانو نے بھی نئی جماعت میں شمولیت اختیار کی،گلگت بلتستان سے خان اکبر خان، مولانا سلطان رئیس اور ایمان شاہ بھی استحکام پاکستان پارٹی کا حصہ بن گئے۔
اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ عبدالعلیم خان نے کہا کہ سیاست ان کے لیے کوئی نئی بات نہیں اور گلگت بلتستان میں پارٹی کی مہم بھرپور انداز میں چلائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور یہاں کی حکومت کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ پاکستان کو بھی مالی طور پر سہارا دے سکتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان صرف سیاحت کے شعبے سے اربوں ڈالر کما سکتا ہے۔
علیم خان نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی اولین ترجیح گلگت بلتستان کے عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ سے نجات دلانا ہوگی، انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان سے فلائٹس گلگت بلتستان جا رہی ہیں، جو اس خطے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاس ہیں۔
انہوں نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر بھی گفتگو کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلی بار عملی طور پر گلگت بلتستان کی سیاست میں شامل ہوئے ہیں اور اپنی جماعت کا منشور عوام کے سامنے رکھیں گے۔