صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر کا پی ٹی آئی کی سیٹ چھورنے کا اعلان

صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر کا پی ٹی آئی کی سیٹ چھورنے کا اعلان

پی ٹی آئی کو پارلیمانی محاذ پر بڑا دھچکا: جنید اکبر کا آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی میں بیٹھنے کا فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر نے پارٹی پالیسیوں سے اختلافات کے باعث پی ٹی آئی کی پارلیمانی صفوں سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اب ایوان میں تحریک انصاف کے بجائے ایک آزاد رکن (Independent) کی حیثیت سے بیٹھیں گے۔

بغاوت یا احتجاج؟ فیصلے کے اہم نکات
جنید اکبر، جو کہ مالاکنڈ سے منتخب رکن ہیں، نے اپنے اس فیصلے کے ذریعے پارٹی قیادت کو حیران کر دیا ہے۔ ان کے اس اقدام کے پیچھے درج ذیل اہم وجوہات بتائی جا رہی ہیں:

پارٹی فیصلوں پر تحفظات: ذرائع کا کہنا ہے کہ جنید اکبر گزشتہ کافی عرصے سے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور پارٹی کے تنظیمی فیصلوں میں نظر انداز کیے جانے پر نالاں تھے۔

آزادانہ حیثیت: انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی نشست چھوڑ کر اب قومی اسمبلی میں کسی پارٹی کے پابند نہیں ہوں گے بلکہ آزاد حیثیت میں اپنے حلقے کی نمائندگی کریں گے۔

صوبائی صدارت سے علیحدگی: اس فیصلے کے بعد ان کا پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی صدارت پر برقرار رہنا بھی ناممکن نظر آ رہا ہے، جس کا اشارہ انہوں نے پہلے ہی دے دیا تھا۔

پی ٹی آئی کے لیے پارلیمانی اثرات
جنید اکبر کا یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے لیے قانونی اور سیاسی طور پر پیچیدہ ثابت ہو سکتا ہے:

فلور کراسنگ کا خطرہ: اگر وہ پارٹی ڈائریکٹو کے خلاف ووٹ دیتے ہیں تو ان پر آرٹیکل 63-اے (فلور کراسنگ) کا اطلاق ہو سکتا ہے، تاہم آزاد حیثیت میں بیٹھنے کا اعلان کر کے انہوں نے ایک درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی ہے۔

صوبائی تنظیم میں ٹوٹ پھوٹ: ان کے اس اقدام سے خیبرپختونخوا میں موجود دیگر ناراض ارکان کو بھی شہ مل سکتی ہے، جس سے پارٹی کے اندر “فارورڈ بلاک” بننے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی: اسلام آباد کی طرف اب کوئی ’چڑھائی‘ نہیں ہوگی، بیرسٹر گوہر کی تصدیق

آئندہ کا لائحہ عمل
جنید اکبر نے تاحال کسی دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا، تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کا آزاد حیثیت اختیار کرنا درحقیقت پارٹی قیادت کے خلاف ایک بڑا احتجاج ہے جو خیبرپختونخوا کی سیاست میں نئے اتحادوں کو جنم دے سکتا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *