آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کی سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں انگلینڈ کے خلاف سنسنی خیز شکست کے بعد اگر، مگر کے گھن چکر میں داخل ہو گئی ہیں، جہاں اب قومی ٹیم کو نہ صرف اپنی آخری کارکردگی بہتر بنانا ہوگی بلکہ دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی نظریں جمائے رکھنا ہوں گی۔
سپر ایٹ کے اہم مقابلے میں انگلینڈ کی قومی کرکٹ ٹیم نے 165 رنز کا ہدف آخری اوور میں 2 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر کے پاکستان کے لیے ایونٹ کے سیمی فائنل تک رسائی کو محدوم کر دیا ہے۔ اس شکست کے بعد گروپ کی صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے اور سیمی فائنل کی دوڑ میں رہنے کے لیے پاکستان کو اب ہر ممکن حساب اپنے حق میں کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹی 20 ورلڈکپ: ویسٹ انڈیز نے زمبابوے کو شکست دے دی
موجودہ پوائنٹس ٹیبل کے مطابق پاکستان کے لیے سب سے واضح راستہ یہ ہے کہ وہ 28 فروری کو اپنے آخری میچ میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کو شکست دے، جبکہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم اپنے باقی دونوں سپر ایٹ میچز ہار جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے اور نیوزی لینڈ انگلینڈ اور سری لنکا دونوں کے ہاتھوں شکست کھا جاتا ہے تو پاکستان 3 پوائنٹس کے ساتھ ڈائریکٹ سیمی فائنل میں پہنچ سکتا ہے، جبکہ نیوزی لینڈ کا ایک اور سری لنکا 2 پوائنٹس پر محدود رہ جائے گا۔
ایک اور ممکنہ منظرنامہ یہ ہے کہ انگلینڈ اپنے آخری میچ میں نیوزی لینڈ کو شکست دے دے، لیکن نیوزی لینڈ سری لنکا کے خلاف کامیابی حاصل کر لے۔ ایسی صورت میں پاکستان اور نیوزی لینڈ دونوں کے 3،3 پوائنٹس ہو جائیں گے اور فیصلہ نیٹ رن ریٹ پر ہوگا۔ اس صورتحال میں پاکستان کو سری لنکا کے خلاف نہ صرف جیت بلکہ بڑی جیت درکار ہوگی تاکہ اس کا نیٹ رن ریٹ نمایاں حد تک بہتر ہو سکے۔
اگر نیوزی لینڈ اپنے دونوں میچز جیت لیتا ہے تو پھر پاکستان کا سفر وہیں ختم ہو جائے گا، چاہے وہ سری لنکا کو کسی بھی مارجن سے شکست دے دے۔ اس لیے بلیک کیپس کے میچز گروپ کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔ نیوزی لینڈ 27 فروری کو شام 6،30 بجے انگلینڈ کے مدمقابل ہوگا اور اگلے روز اسی وقت سری لنکا کے خلاف میدان میں اترے گا، یہ دونوں مقابلے سیمی فائنل کی لائن اپ طے کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
سپر ایٹ مرحلہ اب اپنے آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ہر گیند، ہر رن اور ہر وکٹ کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔ پاکستان کے لیے صورتحال واضح ہے، پہلے سری لنکا کو ہر حال میں شکست دینا ہوگی، پھر نیوزی لینڈ کی ناکامی کی دعا کرنا ہوگی۔ ٹیم مینجمنٹ اور کھلاڑیوں پر دباؤ بڑھ چکا ہے جبکہ شائقین کی نظریں بھی کیلکولیشنز اور ممکنہ نتائج پر مرکوز ہیں۔
کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو بیٹنگ میں تسلسل، پاور پلے میں بہتر آغاز اور بولنگ میں ڈیتھ اوورز کی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی، کیونکہ اگر معاملہ نیٹ رن ریٹ تک گیا تو ہر اضافی رن اور ہر بچایا گیا رن فیصلہ کن بن سکتا ہے۔