وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج 2026 کی تقسیم میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور مستحق افراد تک مالی معاونت جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے پہنچائی جا رہی ہے ، اس حوالے سے جائزہ اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا جس کی صدارت خود وزیراعظم نے کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج 2026 کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے اور اس کے لیے 38 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال فی کس امدادی رقم 5 ہزار روپے تھی جسے بڑھا کر 13 ہزار روپے کر دیا گیا ہے تاکہ مستحق افراد کو رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں زیادہ سے زیادہ مالی سہارا فراہم کیا جا سکےانہوں نے کہا کہ یہ ملک کا سب سے بڑا اور جامع رمضان ریلیف پیکیج ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پچھلے سال کے کامیاب تجربے کی بنیاد پر اس سال بھی امدادی رقوم کی تقسیم شفاف ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے نقد مالی مدد براہ راست مستحقین تک پہنچائی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف شفافیت یقینی بن رہی ہے بلکہ لوگوں کو لمبی قطاروں سے بھی نجات ملی ہے اور ان کی عزتِ نفس بھی محفوظ رہتی ہے۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 8 رمضان المبارک تک 64 فیصد مستحق افراد کو رقوم منتقل کی جا چکی ہیں، جبکہ باقی مستحقین کو ادائیگی کے لیے تصدیق اور جانچ کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ اس سال 12 بینکوں اور فنانشل ٹیکنالوجی کمپنیوں کو تقسیم کے عمل میں شریک کیا گیا ہے اور اب تک مستحقین کی جانب سے 1.1 ملین ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز مکمل کی جا چکی ہیں۔
پیکیج سے متعلق آگاہی کے لیے اب تک 12 لاکھ 27 ہزار سے زائد روبو کالز کی جا چکی ہیں، پیکیج کا دائرہ کار پورے ملک بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر تک پھیلا ہوا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ریئل ٹائم ڈیش بورڈز کے ذریعے ادائیگیوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے، جبکہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بھرپور آگاہی مہم بھی جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔