ایشیائی ترقیاتی بینک نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان کو دس ارب ڈالر فراہم کرے گا، بینک کے مطابق یہ فنڈز دو ہزار تیس تک نئی کنٹری پارٹنرشپ حکمت عملی کے تحت جاری کیے جائیں گے، جس کا بنیادی مقصد پاکستان کی معیشت کو مضبوط، مستحکم اور دیرپا بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔
بینک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس حکمت عملی میں نجی شعبے کو فروغ دینا اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
اس منصوبے کے تحت تین بڑے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی جن میں کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانا، سرمایہ کاری کے مواقع کو بہتر کرنا اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ خواتین کو مساوی مواقع دینا شامل ہے۔
مزید برآں موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہوں گے، اس کے ساتھ ساتھ توانائی، ریلوے اور ٹرانسپورٹ، زراعت اور خوراک کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو بھی ترجیح دی جائے گی تاکہ ملک کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جا سکے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے واضح کیا ہے کہ پانی کے نظام کی بہتری، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی اس منصوبے کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
ادارے نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستان کی برآمدات اس وقت ناکافی ہیں اور کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کا نظام کمزور قرار دیا گیا ہے جبکہ معاشرے میں غربت کی شرح اب بھی زیادہ ہے۔
بینک کے مطابق پاکستان کی معیشت میں حالیہ عرصے میں استحکام آیا ہے، رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ملک کی چھیاسٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ایک بڑی معاشی طاقت بن سکتی ہے۔ بینک نے کہا کہ اگر اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے تو پاکستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر سکتی ہے۔