شہرِ قائد میں طوفانی آندھی اور بارش کی تباہ کاریاں، 18 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی

شہرِ قائد میں طوفانی آندھی اور بارش کی تباہ کاریاں، 18 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی

کراچی میں تیز آندھی، گرج چمک اور موسلا دھار بارش کے نتیجے میں پیش آنے والے مختلف حادثات میں اب تک 18 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ماڑی پور میں ہوا کی رفتار 97 کلومیٹر جبکہ شارع فیصل پر 90 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، جس نے شہر کے انفراسٹرکچر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

سب سے زیادہ جانی نقصان دیواریں گرنے کے واقعات میں ہوا؛ بلدیہ مواچھ گوٹھ کے قریب دیوار گرنے سے 11 افراد اور مدینہ کالونی میں 7 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ شاہ لطیف مرغی خانہ اسٹاپ کے قریب آسمانی بجلی گرنے سے بھی ایک شخص زندگی کی بازی ہار گیا۔

شہر کے مختلف علاقوں بشمول سرجانی ٹاؤن، مچھر کالونی اور مجید کالونی میں مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

طوفانی ہواؤں کے باعث کے-الیکٹرک کے 800 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے، جس سے نارتھ کراچی، کلفٹن، ڈیفنس، گلشن اقبال اور صدر سمیت شہر کا بڑا حصہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔ کئی مقامات پر درخت اور بڑے سائن بورڈز گرنے سے شاہراہیں بلاک ہو گئیں، جبکہ انارکلی بازار میں پولیس کیمپ اور اسٹالز گرنے سے خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم ملبے تلے دبنے والی خواتین اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیتے ہوئے تمام بلدیاتی اداروں کو فیلڈ میں نکلنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے متعلقہ محکموں کے عملے کی عید کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں تاکہ نکاسیِ آب اور امدادی کاموں میں تیزی لائی جا سکے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 24 سے 27 مارچ کے دوران مغربی ہواؤں کا ایک اور سلسلہ کراچی سمیت سندھ میں مزید بارشوں کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ عید کے پہلے دن بھی ہلکی بارش کا امکان ہے۔

انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور بجلی کے کھمبوں و کمزور عمارتوں سے دور رہیں۔

editor

Related Articles