امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ دونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے نئی حکمت عملی اپناتے ہوئے جنگ بندی کو اولین ترجیح دے دی ہے، چاہے آبنائے ہرمز فوری طور پر نہ بھی کھولی جائے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے جیسے پیچیدہ اور طویل فوجی آپریشن کو بعد میں نمٹانا چاہتے ہیں، جبکہ فوری توجہ جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے پر دی جا رہی ہے۔
اخبار کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی ایک مشکل مرحلہ ہے جس کے لیے وسیع پیمانے پر سکیورٹی اقدامات، بحری کارروائیاں اور بین الاقوامی تعاون درکار ہوگا، اسی لیے اسے فوری ایجنڈے میں شامل نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا اور آبنائے ہرمز جلد نہ کھولی گئی تو ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی حکمت عملی میں یہ تبدیلی خطے میں فوری کشیدگی کم کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتی ہے، تاہم اس کے طویل مدتی اثرات کا انحصار آنے والے سفارتی اقدامات پر ہوگا۔
مزید پڑھیں: وائٹ ہاؤس کا بڑا انکشاف: صدر ٹرمپ عرب ممالک سے جنگی اخراجات کی ادائیگی کا مطالبہ کر سکتے ہیں

