ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع اب اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔ آج، 31 مارچ 2026 کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، تہران سمیت ایران کے کئی بڑے شہروں میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد شدید دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق تہران کے شمال مشرقی اور جنوبی حصوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکوں کے بعد شہر کے کئی مقامات سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا ہے۔تہران کے علاوہ تبریز، اصفہان، قم، اور بندر خمیر جیسے اسٹریٹجک مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ بندر خمیر کے قریب ایک حملے میں 5 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
حالیہ حملوں میں بیلسٹک میزائل لانچرز، ڈرون سینٹرز اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔
یہ باقاعدہ جنگ 28 فروری 2026 کو “آپریشن رورنگ لائن” (اسرائیل) اور “آپریشن ایپک فیوری” (امریکہ) کے تحت شروع ہوئی تھی۔ اس تنازع کے ابتدائی مراحل میں ہی ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ فوجی حکام کی شہادت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق، ایران میں 2,000 سے زائد افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ لبنان میں بھی 1,000 سے زائد اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
ایران نے بھی اسرائیل کے شہروں بشمول حیفا اور تل ابیب پر میزائل داغے ہیں۔ حیفا میں ایک آئل ریفائنری پر ایرانی میزائل گرنے سے آگ لگنے کی بھی اطلاع ملی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر جلد کوئی معاہدہ نہ ہوا تو توانائی کی تنصیبات کو مزید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ مسلسل جنگ بندی کی اپیل کر رہی ہے۔