دنیا بھر کی توجہ کل ہونے والے خطاب پر مرکوز ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے متعلق اپنی آئندہ حکمت عملی واضح کر سکتے ہیں۔ بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں یہ خطاب غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور اس میں ممکنہ بڑے اعلانات کی توقع کی جا رہی ہے۔
وائٹ ہاوس کے مطابق صدر ٹرمپ اپنے خطاب میں ایران جنگ پر اہم اپ ڈیٹ دیں گے جو خطے کی صورتحال پر براہ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔ پاکستانی وقت کے مطابق یہ خطاب جمعرات کی صبح 6 بجے ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کے ممکنہ اعلانات میں سب سے اہم پہلو امریکا کی ایران سے فوجی واپسی ہو سکتا ہے۔ ماضی کے بیانات میں وہ واضح کر چکے ہیں کہ امریکا آئندہ چند ہفتوں میں جنگ سے نکلنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس لیے امکان ہے کہ اس حوالے سے باضابطہ ٹائم لائن سامنے لائی جائے۔
ایک اور اہم امکان ایران کے ساتھ کسی ممکنہ ڈیل یا مذاکراتی پیش رفت کا ہو سکتا ہے۔ اگرچہ صدر ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو جنگ ختم کرنے کے لیے ڈیل کی ضرورت نہیں، تاہم سفارتی سطح پر کسی پیش رفت کا عندیہ بھی دیا جا سکتا ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
ٹرمپ کی طرف سے سخت مؤقف بھی خارج از امکان نہیں۔ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے یا اس پر مزید دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں یا اقدامات کا اعلان کیا جا سکتا ہے، جبکہ رجیم چینج سے متعلق بیانات بھی پالیسی کے سخت رخ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک متوازن پیغام دیں جس میں ایک طرف فوجی انخلا کا عندیہ ہو اور دوسری جانب ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی شامل ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ آیا کل کا خطاب خطے میں کشیدگی کم کرے گا یا مزید غیر یقینی صورتحال کو جنم دے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ اعلان نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔