یورپی یونین کا بڑا فیصلہ، مغربی کنارے میں 30 سے زیادہ یہودی بستیاں غیر قانونی قرار

یورپی یونین کا بڑا فیصلہ، مغربی کنارے میں 30 سے زیادہ یہودی بستیاں غیر قانونی قرار

یورپی یونین نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی تعمیر و توسیع کے عمل کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے 30 سے زیادہ نئی یہودی بستیوں کی قانونی حیثیت کو مسترد کر دیا ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ ایک سخت گیر اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ غیر قانونی بستیاں خطے میں دیرپا امن اور ’ 2 ریاستی حل ‘کے امکانات کو براہِ راست نقصان پہنچا رہی ہیں۔

اعلامیے میں 19 جولائی 2024 کو عالمی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) کی جانب سے سنائے گئے تاریخی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عدالت نے پہلے ہی اسرائیلی اقدامات کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار کا یورپی یونین کی نائب صدر،ملائشیا کے وزیرخارجہ کو فون، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

 یورپی یونین نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کے تحفظات کا احترام کرے اور بستیوں کی تعمیر سے متعلق اپنے حالیہ فیصلوں کو جلد از جلد واپس لے۔

یورپی یونین کے ترجمان کے مطابق، مغربی کنارے کی جغرافیائی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی عالمی قوانین کے منافی ہے اور یہ فلسطینی عوام کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔

11 اپریل 2026 کو سامنے آنے والے اس بیان کو ماہرین مشرقِ وسطٰی میں بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال اور اسرائیل پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔

یورپی یونین نے اعادہ کیا ہے کہ وہ ایک ایسی فلسطینی ریاست کی حمایت جاری رکھے گی جو اسرائیل کے ساتھ امن و سلامتی کے ساتھ قائم ہو اور بستیوں کی تعمیر اس مقصد کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

مزید پڑھیں:ایران کے میزائل حملوں کا خوف، اسرائیلی قیادت کا تل ابیب خالی کرنے کا منصوبہ، یونانی جزائر پر منتقل ہونے کی تجویز زیر غور

مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کا مسئلہ دہائیوں سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازع کی بنیاد رہا ہے۔ عالمی عدالتِ انصاف نے 2024 میں اپنے ایک مشاورتی فیصلے میں اسرائیلی قبضے اور بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

 یورپی یونین، جو روایتی طور پر دو ریاستی حل کی حامی ہے، حالیہ برسوں میں اسرائیل کی آباد کاری کی پالیسی پر سخت تنقید کرتی آئی ہے۔ 30 بستیوں کو غیر قانونی قرار دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ اب یورپ محض زبانی مذمت کے بجائے قانونی اور سفارتی دباؤ کو مؤثر بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *