عالمی و مقامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد حکومت کی جانب سے عوام کو مزید ریلیف فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اسی دوران پٹرول پمپ مالکان بھی اپنے مطالبات کے ساتھ سامنے آ گئے ہیں اور انہوں نے اپنے منافع کی شرح میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر اختر نواز نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم ڈیلرز کا مارجن موجودہ 1.5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کیا جائے تاکہ کاروباری اخراجات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو برداشت کیا جا سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیرقانونی ڈیلرز کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور ضلعی انتظامیہ چیکنگ کے نام پر ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کرے۔
اختر نواز کا کہنا تھا کہ کئی علاقوں میں انتظامیہ قوانین کا غلط استعمال کر کے پٹرول پمپ مالکان کو بلاوجہ تنگ کرتی ہے، جس سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی لائی جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکا امن مذاکرات کے باعث ڈیلرز نے اپنی مجوزہ ہڑتال مؤخر کر دی ہے، تاہم اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پٹرول پمپس ازخود بند ہو سکتے ہیں، جس سے ملک میں سپلائی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
پریس کانفرنس میں ڈیلرز نے واضح کیا کہ وہ حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن اگر ان کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو آئندہ لائحہ عمل سخت ہو سکتا ہے۔