گیلپ پاکستان کے ایک تازہ قومی سروے کے مطابق تقریباً 3 چوتھائی پاکستانی عوام غزہ میں امن کی نگرانی کے لیے کثیر ملکی مشن کے تحت فوج بھیجنے کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ سروے 15 جنوری سے 3 فروری کے درمیان کیا گیا، جس میں 73 فیصد جواب دہندگان نے غزہ میں پاکستانی فوج تعینات کرنے کے حق میں رائے دی۔ تاہم یہ حمایت اس شرط سے مشروط ہے کہ یہ مشن مسلم ممالک کے مشترکہ اتحاد کے تحت ہو، فلسطینی قیادت کی جانب سے باضابطہ درخواست دی جائے اور اقوامِ متحدہ کی منظوری حاصل ہو۔
سروے کے مطابق 55 فیصد افراد نے فوجی کردار کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا، جو غزہ کی صورتحال پر عوامی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی شمولیت کے طریقہ کار پر محتاط رویہ بھی سامنے آیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شروع کردہ ‘بورڈ آف پیس’ میں پاکستان کی شمولیت کی صرف 34 فیصد نے حمایت کی، جبکہ 39 فیصد اس بارے میں غیر یقینی کا شکار رہے۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 54 فیصد پاکستانی غزہ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم جنگ بندی کے بعد حالات پر رائے منقسم ہے۔ 43 فیصد کے مطابق خوراک اور سکیورٹی کی صورتحال میں معمولی بہتری آئی ہے، جبکہ 26 فیصد کا کہنا ہے کہ کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
حکمتِ عملی کے حوالے سے بھی عوامی رائے تقسیم ہے۔ 44 فیصد سمجھتے ہیں کہ امن کے لیے فوجی کارروائی ضروری ہے، جبکہ 33 فیصد سفارتی کوششوں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کو ترجیح دیتے ہیں۔
خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات نسبتاً کم نظر آتے ہیں، کیونکہ صرف 20 فیصد جواب دہندگان کو یہ خدشہ ہے کہ فوجی تعیناتی پاکستان کو کسی وسیع علاقائی جنگ میں گھسیٹ سکتی ہے۔
مجموعی طور پر سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ میں پاکستان کے کردار کے لیے عوامی حمایت موجود ہے، تاہم عوام ایسے فریم ورک کے خواہاں ہیں جو مسلم یکجہتی اور بین الاقوامی قانونی حیثیت پر مبنی ہو، نہ کہ عالمی طاقتوں کی قیادت میں چلنے والے اقدامات پر۔