دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نےغزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی امریکی دعوت قبول کرلی،امریکی صدر کی طرف سے پاکستان کوغزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو دی گئی دعوت کے جواب میں پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے فریم ورک کے تحت غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کی حمایت کے لیے جاری کوششوں کے حصے کے طور پر بورڈ آف پیس (BoP) میں شمولیت اختیار کرے گا۔
پاکستان نے امید کا اظہار کیا ہے کہ اس فریم ورک کی تشکیل کے ساتھ ہی غزہ میں مستقل جنگ بندی نافذ کی جائے، فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد میں اضافہ کیا جائے اور علاقے کی تعمیر نو کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کوششیں بین الاقوامی قانونی جواز اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے حصول کا باعث بنیں گی، جس کے نتیجے میں ایک آزاد، خودمختار اور مربوط ریاست فلسطین کا قیام عمل میں آئے گا، جس کی بنیاد پرانی سرحدوں پر ہوگی۔
پاکستان نے اس موقع پر واضح کیا کہ وہ اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے مصائب کے خاتمے کے لیے بورڈ آف پیس کے حصے کے طور پر تعمیری اور فعال کردار ادا کرنے کا منتظر ہے۔
یہ اقدام پاکستان کی خارجہ پالیسی میں فلسطینی عوام کے حقوق کی مسلسل حمایت اور عالمی امن کے لیے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
غزہ میں جاری انسانی بحران اور مسلسل اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں عالمی سطح پر یہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، جس کے تحت متعدد ممالک کی حمایت سے “بورڈ آف پیس کے قیام اور اس میں پاکستان کے فعال کردار کو نہایت اہم اور ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
اس اقدام کی حمایت کئی بااثر ممالک کر رہے ہیں جن میں ترکی، متحدہ عرب امارات سمیت متعدد مسلم ممالک شامل ہیں، جبکہ مزید ممالک بھی اس عمل میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :متحدہ عرب امارات ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے والا پہلا مسلم ملک بن گیا
بورڈ آف پیس کا بنیادی مقصد غزہ بحران کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق نکالنا، غزہ میں مستقل جنگ بندی کو یقینی بنانا اور بالآخر علاقے کی تعمیرِ نو کا آغاز کرنا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق ان کی ریاستی حیثیت اور حقِ خودارادیت کے تحفظ کو بھی اس عمل کا مرکزی نکتہ قرار دیا گیا ہے بو
رڈ کے ذریعے خطے میں مجموعی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کی کوشش کی جائے گی،پاکستان کی شمولیت کو ایک تاریخی اور حقیقت پسندانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان عالمی سطح پر ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے امریکا، چین اور روس جیسے بڑے عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن اور دوستانہ تعلقات ہیں، جس کے باعث وہ ایک پل کا کردار ادا کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتا ہے۔ مزید برآں پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اصولی رہی ہے، چاہے معاملہ فلسطین کا ہو یا کشمیر کاپاکستان نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مؤقف سے کبھی انحراف نہیں کیا۔
🔊PR No.2️⃣2️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Pakistan Accepts Invitation for Joining the Board of Peace BoP with the View to Achieving Lasting Peace in Gaza https://t.co/BX4ufJoPRW
🔗⬇️ pic.twitter.com/9JfOoyyfsC— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 21, 2026

