ایران کی امریکہ کو مذاکرات کی مشروط پیشکش

ایران کی امریکہ کو مذاکرات کی مشروط پیشکش

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور عسکری ٹکراؤ کے درمیان ایران نے امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے اپنا دوٹوک اور اہم ترین مؤقف پیش کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ میز پر بیٹھنے کے لیے تیار تو ہو سکتا ہے، لیکن یہ صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب خطے میں پائیدار امن قائم کیا جائے اور جاری جنگ سے ہونے والے تمام تر نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے۔

انہوں نے اس جنگ کی ذمہ داری براہِ راست امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع امریکی عوام کا نہیں بلکہ ان کی حکومت کا مسلط کردہ ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ حملوں کی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ رہائشی عمارتیں، اسکول، اسپتال اور بینک بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اپنی جوابی کارروائیوں کے دوران کسی بھی پڑوسی ملک کے شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ اپنی تمام تر توجہ صرف امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات تک محدود رکھی ہے۔ انہوں نے قوم کو یقین دلایا کہ علی لاریجانی اور دیگر کلیدی شخصیات کی شہادت کے باوجود ایران کا سیاسی ڈھانچہ اور حکومتی نظام مضبوط ہے اور اس پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ  ایران کی جوہری پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں، ملک پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے حصول کا عمل جاری رکھے گا۔

ایرانی شہریوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی سفارتی پیش رفت میں قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ایران نے چین سمیت دیگر عالمی طاقتوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور ثالثی کا کردار ادا کریں تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

مزید پڑھیں: کابل میں حملے کا اصل ٹارگٹ افغان طالبان کا گولہ بارود ،ڈرون طیاروں کا ڈپو تھا، ڈی جی آئی ایس پی آر

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *