مائیکروسافٹ کے اے آئی ڈویژن کے سربراہ مصطفٰ سلیمان نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 12 سے 18 ماہ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید ٹولز کچھ دفتری اور پیشہ ورانہ ملازمتوں کی نوعیت بدل سکتے ہیں اور بعض شعبوں میں انسانی عملے کی جگہ لے سکتے ہیں۔
مصطفٰ سلیمان کے مطابق اکاؤنٹنٹس، کسٹمر سروس نمائندگان، قانونی اسسٹنٹس، تجزیہ کار اور آئی ٹی سپورٹ اسٹاف جیسے وائٹ کالر ملازمین کے روزمرہ کے کام — رپورٹ لکھنا، ڈیٹا تجزیہ، ای میل ڈرافٹ تیار کرنا، کوڈ لکھنا اور تحقیق — اب AI کے ذریعے خودکار بنائے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمپنیاں اخراجات کم کرنے اور کارکردگی بڑھانے کے لیے تیزی سے AI ٹولز اپنا رہی ہیں، جس سے ملازمتوں کی نوعیت بدل سکتی ہے اور بعض کردار مکمل طور پر ختم بھی ہو سکتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ملازمتیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گی، بلکہ ان کے طریقہ کار اور ذمہ داریاں بدل جائیں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی کاروباری ماحول اور ملازمین کے ہنر دونوں پر اثر ڈالے گی۔ مستقبل میں کمپنیاں ایسے عملے کی تلاش کریں گی جو AI ٹولز کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اپنی صلاحیتیں بڑھا سکے۔
یہ منظرنامہ عالمی سطح پر ملازمتوں کے مستقبل اور کام کے طریقوں میں ایک نئے باب کا آغاز تصور کیا جا رہا ہے۔