ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے سینیئر مشیر اور سابق اسپیکر پارلیمنٹ علی لاریجانی نے امریکی دھمکیوں کے جواب میں ایک انتہائی سخت اور دوٹوک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے اپنی بقا کے لیے ایک “طویل جنگ” کی مکمل تیاری کر رکھی ہے۔
تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان کو مسترد کر دیا جس میں ایران پر “سخت ترین حملوں” کی وارننگ دی گئی تھی۔ لاریجانی نے واضح کیا کہ ایرانی قوم اپنی 6 ہزار سالہ قدیم تہذیب اور قومی وقار کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے اور بیرونی جارحیت کا جواب پوری قوت سے دیا جائے گا۔
علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے “رجیم چینج” یا ایرانی دفاعی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں بلکہ اس کی ہزاروں سال پرانی تاریخ اور عوام کے غیر متزلزل عزم میں پوشیدہ ہے۔
لاریجانی نے مزید کہا کہ اگر واشنگٹن نے اپنی جارحانہ پالیسیاں ترک نہ کیں تو خطے میں موجود تمام امریکی مفادات اور تنصیبات ایران کے نشانے پر ہوں گی۔ بین الاقوامی مبصرین علی لاریجانی کے اس بیان کو تہران کی جانب سے ایک “تزویراتی مزاحمت” قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا دہشتگردوں کے ساتھ ، سینئر سیکورٹی عہدیدار

