’آبنائے ہرمز بند‘ کھلوانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ’ کی اپیل بھی کام نہ آئی، دنیا مکمل خاموش، تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں، توانائی بحران کا خدشہ
Home - دنیا - ’آبنائے ہرمز بند‘ کھلوانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ’ کی اپیل بھی کام نہ آئی، دنیا مکمل خاموش، تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں، توانائی بحران کا خدشہ
خلیج میں واقع اہم سمندری گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ کی بندش کے باعث عالمی توانائی منڈی میں شدید بے یقینی پیدا ہوگئی ہے۔ اگر صورتحال برقرار رہی تو دنیا کو بڑے توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق عالمی آئل انڈسٹری نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو باضابطہ طور پر خبردار کیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز‘ کی بندش عالمی تیل کی سپلائی کو بری طرح متاثر کرسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خلیج فارس میں واقع یہ اہم سمندری راستہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق روزانہ تقریباً 20 فیصد عالمی خام تیل اسی راستے کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
واضح رہے کہ اگر یہ راستہ طویل عرصے تک بند رہا تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ ایشیا، یورپ اور امریکا میں توانائی کی سپلائی متاثر ہوگی جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
عالمی منڈی میں اس خدشے کے باعث تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھا گیا۔ امریکی خام تیل کی قیمت میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد اس کی قیمت 102 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت 106 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سمندری راستہ جلد بحال نہ ہوا تو قیمتوں میں مزید تیزی آسکتی ہے۔
آئل کمپنیوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش صرف تیل کی ترسیل ہی نہیں بلکہ مائع قدرتی گیس اور دیگر توانائی مصنوعات کی سپلائی کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ خلیجی ممالک سے ایشیائی منڈیوں تک جانے والی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے، اس لیے اس کی بندش توانائی کی عالمی زنجیر میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی حکومت کی جانب سے عالمی اتحادیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ’آبنائے ہرمز‘ میں جہاز رانی کی بحالی کے لیے مشترکہ اقدامات کریں، تاہم اس معاملے پر کئی ممالک نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ ’جاپان ‘ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ فی الحال اس علاقے میں اپنے بحری جہاز بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
اسی طرح ’فرانس‘ بھی پہلے ہی خطے میں اپنی بحری موجودگی بڑھانے سے انکار کر چکا ہے۔ مبصرین کے مطابق یورپی ممالک خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشے کے باعث کسی فوجی یا بحری کارروائی میں فوری طور پر شامل ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔
ادھر ’چین‘ نے سفارتی سطح پر متحرک ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ ’واشنگٹن‘ میں موجود چینی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چین خطے کے متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے بڑھا کر کشیدگی کم کرنے اور مسئلے کے پرامن حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گا۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال اگر مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات صرف توانائی منڈی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، شپنگ انڈسٹری اور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے دنیا کی نظریں اس وقت خلیج کی صورتحال اور بڑے ممالک کی سفارتی کوششوں پر مرکوز ہیں۔