فتنہ الخوارج دہشتگردوں کی معصوم ذہنوں کو نشانہ بنانے کی سازش، ہاتھوں میں قلم کی جگہ بندوق تھما دی

فتنہ الخوارج دہشتگردوں کی معصوم ذہنوں کو نشانہ بنانے کی سازش، ہاتھوں میں قلم کی جگہ بندوق تھما دی

خیبر پختونخوا میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے حوالے سے سامنے آنے والی حالیہ اطلاعات نے ایک بار پھر معاشرے کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں مبینہ طور پر کمسن بچوں کو اسلحہ تھما کر انہیں شدت پسندی کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہا فتنہ الخوارج کی ایسی سرگرمیاں نہ صرف غیر انسانی ہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معصوم ذہنوں کو گمراہ کرنے کی کوشش بھی قرار دی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان رجیم کے انسانیت سوز جرائم بے نقاب، سابق فوجی اہلکارنشانہ

رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی چند ویڈیوز میں بچوں کو اسلحہ تھامے اور نعرے لگاتے دکھایا گیا ہے، جس پر عوامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ واضح رہے کہ بچوں کو اس طرح کے ماحول میں دھکیلنا نہ صرف ان کے ذہنی اور اخلاقی ارتقاء کو متاثر کرتا ہے بلکہ معاشرے میں تشدد کے رجحانات کو بھی فروغ دیتا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بچوں کو اسلحہ دینا بہادری نہیں بلکہ قوم کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک سفاک حکمت عملی ہے جس کے ذریعے نئی نسل کو ‘شدت پسندی کی فیکٹری’ کا حصہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے واضح کیا کہ چند ویڈیوز سے کسی گروہ کے کنٹرول یا طاقت کا تاثر قائم نہیں ہوتا بلکہ یہ خوف اور پروپیگنڈے کے ذریعے ایک جھوٹا بیانیہ گھڑنے کی کوشش ہوتی ہے۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق کم عمری میں تشدد کا سامنا کرنے والے بچے مستقبل میں شدید نفسیاتی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایسے بچوں میں جارحیت، خوف اور عدم برداشت کے رجحانات بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے، جو بعد ازاں پورے معاشرے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

 ماہر نفسیات نے خبردار کیا کہ ’اگر آج ان بچوں کے ہاتھ میں بندوق دی جا رہی ہے تو کل وہ تعلیم اور مثبت سرگرمیوں سے دور ہو جائیں گے‘۔ عوامی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ جو گروہ بچوں کو نفرت انگیز نعرے سکھائے اور اسلحہ اٹھانے کی ترغیب دے، وہ کسی صورت عوام کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا بلکہ وہ معاشرے کا دشمن ہے۔

درخت جلوانا، ہتھیار دلوانا اور بچوں کو استعمال کرنا طاقت کی علامت نہیں بلکہ تباہی کی ایک خطرناک شکل ہے، جو آنے والی نسلوں کو اندھیروں کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں اس نوعیت کے واقعات نے صوبائی حکمرانی اور مقامی سیاسی قیادت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔  اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:قوم کو یقین دلاتا ہوں، اللہ کی نصرت کے ساتھ اپنے وطن کا ’ایک انچ‘ بھی کسی کو نہیں لینے دیں گے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

واضح رہے کہ فتنہ الخوارج کی شدت پسندی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی ذمہ داری نہیں بلکہ ریاست، علما، اساتذہ، والدین اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دینی و سماجی رہنماؤں نے بھی اس رجحان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام امن، تعلیم اور انسانیت کا درس دیتا ہے، جبکہ بچوں کو تشدد کی طرف مائل کرنا اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘بچوں کے ہاتھ میں کتاب اور قلم ہونا چاہیے، نہ کہ اسلحہ’۔

مجموعی طور پر یہ صورتحال ایک سنجیدہ قومی چیلنج کی نشاندہی کرتی ہے، جس سے نمٹنے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر معاشرہ آج خاموش رہا تو آنے والے وقت میں اس کے نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں، جہاں معصوم ذہنوں کی جگہ شدت پسندی پروان چڑھتی نظر آئے گی۔

Related Articles