بنگلہ دیش کے وزیر برائے نوجوانان و کھیل آصف نذرل نے 2026 کے آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی شمولیت سے محرومی کے بعد پاکستان کی جانب سے یکجہتی کے اظہار پر حکومتِ پاکستان اور وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا ہے اور اس اقدام کو کھیلوں میں غیر جانبداری، اخلاقی جرات اور اصولی مؤقف کی مثال قرار دیا ہے۔
آصف نذرل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف کے اعلان کے بعد پاکستان نے بھارت کے خلاف اپنا میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا تاکہ بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ حمایت کیا جا سکے‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف بنگلہ دیش کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ عالمی کھیلوں میں انصاف اور برابری کے اصولوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
بنگلہ دیشی وزیر کھیل کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے کابینہ اجلاس کے دوران واضح کیا کہ ’کھیل میں سیاست کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے‘اور یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے حق میں مکمل غور و فکر کے بعد کیا گیا۔ آصف نذرل نے کہا کہ پاکستان کا یہ مؤقف کھیلوں کی اصل روح کے عین مطابق ہے اور اسے عالمی سطح پر سراہا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش نے 22 جنوری کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔ بنگلہ دیشی حکام کا مؤقف تھا کہ انہیں ٹورنامنٹ کے انتظامی معاملات میں درپیش تحفظات اور حفاظتی انتظامات کے حوالے سے تسلی بخش یقین دہانی نہیں کرائی گئی، جبکہ آئی سی سی کی جانب سے ان کے ساتھ منصفانہ سلوک بھی نہیں کیا گیا۔
بنگلہ دیش کے ٹورنامنٹ سے دستبردار ہونے کے بعد اسکاٹ لینڈ کو اس کی جگہ شامل کر لیا گیا۔ اسکاٹ لینڈ کو گروپ سی میں انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، اٹلی اور نیپال کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ اپنا پہلا میچ 7 فروری کو ایڈن گارڈنز، کولکتہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گا۔
آصف نذرل نے مزید کہا کہ ’یہ صورتحال عالمی کرکٹ میں سکیورٹی، انتظامی شفافیت اور کھیلوں میں غیر جانبداری کے حوالے سے ایک نیا سفارتی پہلو پیدا کر رہی ہے‘۔ ان کے مطابق آئندہ دنوں میں اس معاملے پر بین الاقوامی کرکٹ حلقوں میں مزید بحث متوقع ہے، جو کھیلوں کے مستقبل کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
کھیلوں سے متعلق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کے ساتھ کھل کر یکجہتی کا اظہار نہ صرف دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی سطح پر کھیلوں میں سیاسی دباؤ اور امتیازی رویوں کے خلاف ایک مضبوط پیغام بھی دے گا۔