انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عبدالکریم نے عہدہ سنبھالتے ہی ناقص کارکردگی اور بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ آئی جی پنجاب کی ہدایات پر پولیس افسران کے خلاف فوری ایکشن لیا جا رہا ہے تاکہ فورس میں نظم و ضبط قائم کیا جا سکے اور شہریوں کو انصاف فراہم ہو۔
انچارج چوکی کی جانب سے ایک شہری کو زنجیروں میں جکڑنے کے واقعے پر آئی جی پنجاب عبدالکریم نے سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کیے۔ آئی جی پنجاب کا مؤقف ہے کہ انسانی وقار کی تضحیک اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اسی پالیسی کے تحت ناقص کارکردگی پر اے ایس پی آپریشنز کاہنہ لاہور آغا فصیح رحمان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پولیس ہیڈکوارٹرز پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق متعدد پولیس افسران کو عہدوں سے ہٹا کر نئی تعیناتیاں کی گئی ہیں۔ نوٹیفکیشن کے تحت مس سارہ علی ہاشمی، اے ایس پی کو ایس ڈی پی او صدر چکوال کے عہدے سے ہٹا کر سینٹرل پولیس آفس پنجاب لاہور رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسی طرح محمد عرفان سعید، ڈی ایس پی کو ڈسٹرکٹ آفیسر کینٹ اسپیشل برانچ لاہور ریجن کے عہدے سے ہٹا کر ایس ڈی پی او فیروزوالا شیخوپورہ تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ سجاد اکبر، ڈی ایس پی کو ایس ڈی پی او فیروزوالا شیخوپورہ کے عہدے سے ہٹا کر سینٹرل پولیس آفس پنجاب لاہور رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
آئی جی پنجاب عبدالکریم نے واضح کیا ہے کہ پنجاب پولیس میں میرٹ، شفافیت اور عوامی خدمت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، جبکہ ناقص کارکردگی، بدعنوانی اور شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک میں ملوث افسران کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔