آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم کو چارج سنبھالتے ہی ایک بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ لاہور ہائیکورٹ نے انہیں توہینِ عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کر لی ہے۔ یہ راؤ عبد الکریم کے خلاف پہلی توہینِ عدالت کی کارروائی ہے۔
درخواست سابق کانسٹبل محمد عاطف اور جمشید اقبال کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ 9 اگست 2024 کو پولیس کانسٹبل بھرتی ہوئے، تاہم 21 مئی 2025 کو ان کی بھرتی کے آرڈرز واپس لے لیے گئے۔ درخواست گزاروں کے مطابق متعلقہ سی سی پی او اور آئی جی پولیس کو داد رسی کے لیے اپیلیں کی گئیں لیکن ان کی شکایات پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
مزید برآں درخواست میں کہا گیا کہ پولیس افسران سے داد رسی نہ ہونے پر انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے آئی جی پنجاب کو زیرالتوا درخواست پر تین ہفتوں میں فیصلے کا حکم دیا تھا، جس کا نوٹس 21 اکتوبر 2025 کو دیا گیا۔ تاہم راؤ عبد الکریم نے عدالتی حکم پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کیا، جسے درخواست میں عدالتی حکم عدولی قرار دیا گیا ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے اور عدالتی حکم پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
جسٹس شاہد کریم کی سربراہی میں کیس کی سماعت کے دوران ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو وضاحت جمع کرانے کا حکم دیا اور آئندہ سماعت میں اس معاملے کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔
ماہرین قانون کے مطابق آئی جی پنجاب کے لیے یہ معاملہ عہدے پر آنے کے فوراً بعد ایک سنگین چیلنج ہے، کیونکہ عدالتی حکم عدولی کی بنیاد پر توہینِ عدالت کے اقدامات قانونی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں۔