آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے ایران میں جاری فوجی کارروائیوں اور جنگی حکمتِ عملی کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے واضح وضاحت طلب کر لی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم البانیز نے کہا کہ وہ اس جنگ کے پسِ پردہ مقاصد اور مستقبل کی حکمتِ عملی کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم انتھونی البانیز نے واضح کیا کہ عالمی برادری کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس جنگ کے اصل اہداف کیا ہیں۔
انہوں نے کہا”میں جنگ کے مقاصد کے حوالے سے مزید وضاحت اور خطے میں کشیدگی میں کمی دیکھنا چاہتا ہوں۔ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس جنگ کا رخ کس جانب ہے اور اس کے حتمی مقاصد کیا ہیں۔”
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں اسرائیل نے اپنے نصف سے زائد اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ مشن کو مکمل طور پر پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ابھی مزید وقت درکار ہوگا۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ ایران کے جوہری پروگرام اور اس کی ہتھیاروں کی صنعت کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ ایرانی حکومت گرنے کے دہانے پر ہے، لیکن فی الوقت توجہ ایران کی فوجی، میزائل اور جوہری صلاحیتوں کو نشانہ بنا کر اسے اندرونی طور پر کمزور کرنے پر مرکوز ہے۔
سفارتی حلقوں میں آسٹریلوی وزیراعظم کے اس بیان کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ امریکہ کے ایک اہم اتحادی کی جانب سے جنگی مقاصد پر اٹھایا گیا براہِ راست سوال ہے۔
ماہرین کے مطابق، جہاں اسرائیل ایران کو فوجی طور پر کمزور کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے، وہیں آسٹریلیا جیسے ممالک خطے میں طویل المدتی عدم استحکام اور جنگ کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے واضح روڈ میپ کے خواہاں ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا یورپی ممالک کو سخت پیغام: “آبنائے ہرمز سے تیل کی حفاظت خود کریں”

