ایم این اے شیر افضل مروت نے سہیل آفریدی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بننے سے پہلے وہ واسکٹ فروخت کرتے تھے اور عنقریب دوبارہ اسی دکان پر واپس چلے جائیں گے۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ یہ صوبہ سہیل آفریدی کا نہیں ہے بلکہ انہیں اس حوالے سے خوش فہمی ہو گئی ہے، انہوں نے کہا کہ حکمرانی کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد سے چلتی ہے۔
گزشتہ روز بھی ڈی آئی خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا تھا کہ پارٹی کی موجودہ قیادت نہ خود کوئی کام کرتی ہے اور نہ ہی دوسروں کو کرنے دیتی ہے۔
انہوں نے علی امین گنڈا پور کو پارٹی میں واپس لانے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس کے لیے پارٹی کو انہیں راضی کرنا ہوگا، کیونکہ سابقہ قیادت نے علی امین گنڈا پور کو ہٹانے کے لیے الزام تراشیاں کی تھیں۔
شیرافضل مروت نے سہیل آفریدی کے بارے میں کہا تھا کہ ایسے شخص کو وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے جو پرائمری اسکول بھی نہیں چلا سکتا اور 6 ماہ میں اپنی کابینہ بھی تشکیل نہیں دے سکا،انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جب تک علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر کو پارٹی میں آگے نہیں لایا جاتا، پارٹی آگے نہیں بڑھ سکتی ۔