سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ملک میں جاری پنشن اصلاحات کے سلسلے میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے بلوچستان اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کے لیے مزید پنشن فنڈز کی منظوری دے دی ہے۔
اس اقدام کا مقصد سرکاری ملازمین کے ریٹائرمنٹ فوائد کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور حکومت پر پنشن کے بڑھتے ہوئے طویل المدتی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
ایس ای سی پی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، حکومتِ بلوچستان کے لیے مزید 8 پنشن فنڈز کی منظوری دی گئی ہے جس کے بعد صوبے میں منظور شدہ فنڈز کی مجموعی تعداد 15 ہو گئی ہے۔
اسی طرح حکومتِ پنجاب کے لیے ایک اور پنشن فنڈ کی منظوری کے بعد وہاں فنڈز کی تعداد بڑھ کر 25 تک پہنچ گئی ہے۔ ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کنٹری بیوشن پنشن نظام کا عملی نفاذ شروع ہو چکا ہے اور دیگر سرکاری اداروں میں بھی اسے بتدریج لاگو کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ان پنشن اصلاحات سے حکومت کے طویل المدتی پنشن واجبات میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ جدید کنٹری بیوشن پنشن سسٹم ناصرف حکومتی خزانے پر بوجھ کم کرے گا بلکہ ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے وقت زیادہ مالی فوائد کی ضمانت بھی دے گا۔
ان فنڈز کا انتظام پیشہ ورانہ انداز میں نجی ایسٹ منیجمنٹ کمپنیاں کر رہی ہیں، جس سے سرمایہ کاری میں شفافیت اور بہتر منافع کی توقع ہے۔ اپریل 2026 کے ان اقدامات کو ملکی معیشت کے استحکام اور سرکاری ملازمین کے سماجی تحفظ کے حوالے سے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں روایتی پنشن کا نظام وفاقی اور صوبائی بجٹ پر ایک بھاری بوجھ بن چکا تھا، جس کے حل کے لیے ایس ای سی پی نے ‘ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن’ ماڈل متعارف کرایا ہے۔
اس نظام میں ملازم اور حکومت دونوں ماہانہ بنیادوں پر فنڈ میں حصہ ڈالتے ہیں، جسے پیشہ ورانہ طور پر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے بعد اب پنجاب اور بلوچستان میں اس نظام کی وسعت معاشی نظم و ضبط کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔