پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتظامی ڈھانچے اور حالیہ فیصلوں پر بحث ایک بار پھر گرم ہو گئی ہے، جہاں ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر نے عاقب جاوید کی بورڈ میں طویل عرصے سے موجودگی اور ان کی مجموعی کارکردگی پر کڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تفصیلات لےکے مطابق سابق ٹیسٹ کرکٹرعبد الروف خان نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پی سی بی کی انتظامیہ یا سلیکشن کمیٹی میں بار بار ایک ہی چہروں کو کیوں آزمایا جاتا ہے۔
سابق کرکٹر کا موقف ہے کہ عاقب جاوید کئی برسوں سے مختلف حیثیتوں میں بورڈ یا اس سے وابستہ پراجیکٹس کا حصہ رہے ہیں، لیکن کیا ان کی اننگز کے نتائج پاکستان کرکٹ کی بہتری کی صورت میں نکلے ہیں؟ سابق کرکٹرز کی جانب سے تنقید میں کہا گیا ہے کہ جدید کرکٹ کے تقاضے بدل چکے ہیں، اور اگر کوئی عہدیدار مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہتا ہے تو اسے طویل عرصہ عہدے پر برقرار رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی سی بی کو صرف مخصوص حلقوں تک محدود رہنے کے بجائے نئے آئیڈیاز اور جدید سوچ رکھنے والے سابق کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہیے تاکہ ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل آ سکے۔
واضح رہے کہ عاقب جاوید اس وقت پی سی بی کی اہم ذمہ داریوں، بشمول سلیکشن کمیٹی اور ہائی پرفارمنس سینٹرز کے معاملات میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ ان کے پاس کوچنگ اور ٹیلنٹ کی شناخت کا وسیع تجربہ ہے، جبکہ ناقدین کے خیال میں اب نئے وژن کی ضرورت ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ میں حالیہ مہینوں میں سلیکشن کمیٹی کی بار بار تبدیلیوں اور کوچنگ اسٹاف کی اکھاڑ پچھاڑ نے پہلے ہی شائقین اور سابق کھلاڑیوں میں بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔ اس تناظر میں عاقب جاوید جیسے سینئر عہدیدار پر تنقید بورڈ کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نے پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز جیت لی

