امریکی کمیشن نے بھارت کو مذہبی آزادیاں سلب کرنے والا ملک قرار دے دیا

امریکی کمیشن نے بھارت کو مذہبی آزادیاں سلب کرنے والا ملک قرار دے دیا

امریکا کے ایک اہم سرکاری مشاورتی ادارے ’امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی‘(یو ایس سی آئی آر ایف) نے اپنی تازہ سالانہ رپورٹ میں بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چند انتہا پسند بھارتی تنظیموں اور اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کر دی ہے۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ‘، حکمران جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ کے نظریاتی ڈھانچے اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ‘ کا نام لیتے ہوئے ان پر پابندیوں کی تجویز دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آر ایس ایس کے نظریے پر چلنےوالی بی جے پی سرکار میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات غیر محفوظ

کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال گزشتہ چند برسوں میں مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے اور مختلف مذہبی اقلیتوں کو ریاستی پالیسیوں اور سماجی دباؤ کا سامنا ہے۔

کمیشن نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو ’خاص تشویش کا ملک ‘ قرار دے اور اس کے ساتھ دفاعی تعاون، اسلحہ کی فروخت اور تجارتی پالیسیوں کو مذہبی آزادی کے احترام سے مشروط کرے۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی’ ایک آزاد مشاورتی ادارہ ہے جو 1998 میں امریکی کانگریس کے ایک قانون کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ اس ادارے کا مقصد دنیا بھر میں مذہب یا عقیدے کی آزادی کی صورتحال کی نگرانی کرنا اور امریکی صدر، وزیر خارجہ اور کانگریس کو اس حوالے سے سفارشات پیش کرنا ہے۔

کمیشن کے 9 ارکان ہوتے ہیں جنہیں امریکی صدر اور امریکی کانگریس کے سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے سینیئر سیاسی رہنما مقرر کرتے ہیں۔

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں بعض ریاستوں نے مذہب تبدیل کرنے کے خلاف سخت قوانین متعارف کرانے یا موجودہ قوانین کو مزید سخت بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان قوانین میں قید کی سخت سزائیں شامل کی گئی ہیں جنہیں انسانی حقوق کے حلقے مذہبی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے بعض مواقع پر مذہبی اقلیتوں اور مذہبی پناہ گزینوں کی وسیع پیمانے پر حراست اور جبری ملک بدری کے اقدامات میں سہولت فراہم کی۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض علاقوں میں مذہبی اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن پر مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

کمیشن نے ‘وقف ترمیمی ایکٹ’ سمیت بعض دیگر قوانین پر بھی تنقید کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ قانون اسلامی فلاحی اوقاف کے انتظام اور ضابطہ کار میں بڑی تبدیلیاں لاتا ہے جس کے باعث مسلم کمیونٹی میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ’اتراکھنڈ ریاستی اتھارٹی برائے اقلیتی تعلیم‘ سے متعلق اقدامات کو بھی رپورٹ میں زیر بحث لایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان پالیسیوں کے اثرات اقلیتی تعلیمی اداروں پر پڑ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:الیکشن چوری ہوا،انتخابی کمیشن آر ایس ایس کا دفتر بن چکا،مودی حکومت جعلی ہے، ثبوت قوم کے سامنے لاؤں گا،راہول گاندھی

ادھر بھارتی حکومت نے ماضی میں بھی اس کمیشن کی رپورٹوں کو مسترد کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کا مؤقف رہا ہے کہ کمیشن کی تحقیقات جانبدار اور سیاسی طور پر محرک ہوتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے جہاں آئین تمام شہریوں کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔

واضح رہے کہ اگر امریکا اس کمیشن کی سفارشات کو پالیسی کی سطح پر اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات امریکا اور بھارت کے تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں، خاص طور پر دفاعی تعاون، تجارتی روابط اور سفارتی تعلقات کے شعبوں میں۔

رپورٹ کے اجرا کے بعد عالمی انسانی حقوق کے حلقوں میں اس موضوع پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے جبکہ بھارتی حکومت کی جانب سے اس پر باضابطہ ردعمل آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

Related Articles