امریکا کو بڑی ناکامی، برطانیہ کا ایران کے خلاف کسی بھی جنگ کا حصہ نہ بننے کا اعلان

امریکا کو بڑی ناکامی، برطانیہ کا ایران کے خلاف کسی بھی جنگ کا حصہ نہ بننے کا اعلان

برطانیہ کے وزیراعظم کئیر اسٹامر نے کہا ہے کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا تاہم وہ اس جنگ کا براہِ راست حصہ نہیں بنے گا۔

پیر کے روز مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اب تک 92 ہزار سے زائد برطانوی شہری کمرشل اور سرکاری چارٹر پروازوں کے ذریعے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ برطانیہ ایران سے لاحق خطرات سے نمٹنے اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سرگرم ہے، لیکن جنگ میں براہِ راست شمولیت کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی وزیر اعظم کے لیے فوج کو بیرونِ ملک تعینات کرنے کا فیصلہ انتہائی حساس اور مشکل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا حج پروازیں منسوخ ہورہی ہیں؟عازمین حج کیلئے اہم خبر

کیئر اسٹارمر نے کہا کہ اگر فوجیوں کو خطرناک حالات میں بھیجا جائے تو یہ ضروری ہے کہ اس اقدام کی واضح قانونی بنیاد ہو اور اس کے پیچھے مکمل منصوبہ بندی موجود ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی مفادات کے تحفظ کے لیے دباؤ کے باوجود ثابت قدم رہنا ان کی قیادت کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے اور انہیں یقین ہے کہ وقت ثابت کرے گا کہ ان کی حکومت نے درست حکمت عملی اختیار کی۔

وزیراعظم کے مطابق حکومت کی اولین ترجیح خطے میں موجود برطانوی شہریوں کا تحفظ ہے اور لبنان میں موجود شہریوں کی مدد کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے عالمی منڈیوں کے استحکام کے لیے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ آسان کام نہیں، اسی لیے برطانیہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر اس حوالے سے حکمت عملی تیار کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *