یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا کی ثالثی میں روس کے ساتھ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتیجہ دے سکتی ہیں۔ جرمنی کے شہر میونخ میں منعقدہ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوکرین امن چاہتا ہے، تاہم مذاکرات کے عمل میں توازن ضروری ہے۔
صدر زیلنسکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں یوکرین سے تو مختلف رعایتوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، مگر روس پر اسی نوعیت کا دباؤ نظر نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے مذاکراتی ٹیم میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جس سے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے اور سنجیدگی پر سوال اٹھتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کے لیے دونوں فریقین کو واضح اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
یوکرینی صدر نے کہا کہ امریکا اس تنازع میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس اثر و رسوخ موجود ہے اور وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ زیلنسکی کا کہنا تھا کہ کسی بھی پائیدار امن معاہدے کے لیے سب سے پہلے مکمل اور مؤثر جنگ بندی ضروری ہے، کیونکہ جنگ جاری رہتے ہوئے کسی بھی ریفرنڈم یا عوامی مشاورت کا انعقاد ممکن نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، تاہم ایک منصفانہ اور قابل قبول امن فارمولے پر بات چیت کے لیے تیار ہے، زیلنسکی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی اور بامعنی مذاکرات کے لیے متحد ہو کر کردار ادا کرے تاکہ خطے میں استحکام بحال ہو سکے اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔