صوبائی وزیر کھیل و توانائی پنجاب فیصل ایوب کھوکھر نے قومی کرکٹر نسیم شاہ کے حالیہ بیانات پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دو کروڑ روپے جرمانہ ان کے نزدیک انتہائی کم سزا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایک اچھا کھلاڑی ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اپنی زبان پر قابو نہ رکھے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر رویے میں بہتری نہ آئی تو نسیم شاہ کو قومی ٹیم سے بھی نکالا جا سکتا ہے، صوبائی وزیر نے کہا کہ آزادیٔ اظہارِ رائے کی آڑ میں کسی بھی ریاستی عہدیدار یا چیف ایگزیکٹو کے خلاف نازیبا گفتگو قابل قبول نہیں۔
وزیر کھیل نے مریم نواز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ان کا کردار نمایاں ہےان کا کہنا تھا کہ اگر آج شہری، خصوصاً خواتین، خود کو محفوظ سمجھتی ہیں تو اس میں وزیراعلیٰ کی پالیسیوں کا اہم کردار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ محسن نقوی نے اس معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کیا، تاہم اگر وہ خود اس پوزیشن میں ہوتے تو سزا مزید سخت ہو سکتی تھی۔
دوسری جانب صوبائی وزیر نے کھیلوں کے فروغ کے لیے بڑے منصوبوں کا اعلان بھی کیا، انہوں نے بتایا کہ پنجاب بھر میں ایک ہزار نئے کھیل کے میدان تعمیر کیے جائیں گے، جہاں تحصیل اور ضلع کی سطح پر نوجوان کھلاڑیوں کو مکمل میرٹ پر مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ صوبائی حکومت “پنجاب کی اپنی کرکٹ ٹیم” تشکیل دینے جا رہی ہے، جس کا مقصد مقامی ٹیلنٹ کو سامنے لانا اور نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
توانائی کے شعبے سے متعلق بات کرتے ہوئے فیصل ایوب کھوکھر نے صنعتکاروں کو یقین دہانی کرائی کہ جلال پور بھٹیاں سمیت مختلف صنعتی علاقوں میں سستی بجلی کی فراہمی کے اقدامات زیر غور ہیں اور جلد اس حوالے سے خوشخبری دی جائے گی۔