پاکستان میں الیکٹرک بائیکس کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ سامنے آیا ہے، جس کے تحت مختلف ماڈلز کی قیمتیں 5 ہزار روپے تک بڑھا دی گئی ہیں۔
اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث سپلائی چین میں ممکنہ خلل کے خدشات، اور بڑھتے ہوئے لاجسٹک اخراجات شامل ہیں۔
اسمبلرز کے مطابق سمندری فریٹ چارجز، ترسیل میں ڈیزل کے بڑھتے اخراجات اور مجموعی لاجسٹک لاگت میں اضافے نے بھی قیمتوں میں اضافے پر مجبور کیا۔
نئی قیمتیں کچھ کمپنیوں کے لیے 3 اپریل سے نافذ العمل ہو گئی ہیں جبکہ دیگر کمپنیوں کے لیے 10 اپریل سے لاگو ہوں گی۔
اس کے نتیجے میں بیٹری سے چلنے والی بائیکس کی قیمت 1 لاکھ 25 ہزار روپے سے لے کر 3 لاکھ 50 ہزار روپے تک ہو گئی ہے، جو بیٹری رینج اور موٹر کی مختلف اقسام پر منحصر ہے۔
ایک اسمبلر کے مطابق سامان کی ترسیل کرنے والے کرایوں میں 30 فیصد اضافہ کر چکے ہیں، جبکہ ٹرانسپورٹرز آف گڈز ایسوسی ایشن نے ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے کرایوں میں 60 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔
الیکٹرک بائیکس کی فروخت میں اضافہ اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ ایک اسمبلر نے صرف مارچ میں 7,000 سے زائد یونٹس فروخت کیے۔
دوسری جانب، پیٹرول سے چلنے والی بائیکس کی فروخت بھی مستحکم ہے، تاہم پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مارچ کے اعداد و شمار مستقبل کے مارکیٹ رجحانات کو مزید واضح کریں گے۔