وزیراعلیٰ کے احکامات؟ پنجاب میں ایک اور بچہ کھلے گٹر میں گر کر جان کی بازی ہارگیا

وزیراعلیٰ کے احکامات؟ پنجاب میں ایک اور بچہ کھلے گٹر میں گر کر جان کی بازی ہارگیا

بہاولنگر میں شہری انتظامیہ کی غفلت ایک بار پھر ایک معصوم جان نگل گئی، جہاں اڈا سونڈھا روڈ کے قریب گندے پانی کے کھلے گڑھے میں گرنے سے 3 سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا۔

افسوسناک واقعے نے نہ صرف اہلِ علاقہ کو غمزدہ کر دیا بلکہ صوبے بھر میں کھلے گٹروں اور گندے پانی کے گڑھوں سے ہونے والے جان لیوا حادثات پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچہ کھیلتے ہوئے گلی میں موجود گندے پانی کے ایک کھلے گڑھے کے قریب پہنچ گیا اور توازن بگڑنے کے باعث اس میں جا گرا۔ گڑھا پانی سے بھرا ہونے کی وجہ سے بچے کو فوری طور پر باہر نکالا نہ جا سکا۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا کے طویل ترین اور سب سے مختصر روزے کہاں ہوں گے؟ سحر و افطار ٹائمنگ جاری

اہلِ محلہ نے شور سن کر موقع پر پہنچ کر اپنی مدد آپ کے تحت بچے کی تلاش شروع کی اور کچھ دیر بعد لاش کو گڑھے سے نکال لیا۔ بچے کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹرز نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔ واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور اہلِ خانہ غم سے نڈھال ہو گئے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں کو متعدد بار گندے پانی کے اس کھلے گڑھے کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا، لیکن کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ شہریوں نے انتظامیہ پر شدید غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں۔ چند روز قبل لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب کھلے گٹر میں گرنے سے ماں اور بیٹا جاں بحق ہو گئے تھے، جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے سخت نوٹس لیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ گٹر کے ڈھکن چوری کرنے، خریدنے اور بیچنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور اس جرم پر سزا دی جائے گی۔

مزید پڑھیں:کراچی: بچہ گٹر میں گرنے کا واقعہ، بی آرٹی ریڈ لائن کی تعمیرات حادثے کی وجہ قرار

وزیراعلیٰ کے احکامات کے باوجود ایسے حادثات کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ اس کے بعد قصور میں بھی ایک شادی ہال کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر 3 سالہ بچہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، جس نے حکومتی اقدامات کی مؤثریت پر سوالیہ نشان لگا دیا۔

شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں کھلے گٹر، ٹوٹے ہوئے مین ہول اور گندے پانی کے غیر محفوظ گڑھے ایک مستقل خطرہ بن چکے ہیں، جن کا سب سے زیادہ نشانہ بچے بن رہے ہیں۔ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ محض بیانات کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *