اسلام آباد میں تاریخی مذاکرات! اس سے قبل امریکی حکام کب کب پاکستان آئے؟جانیے

اسلام آباد میں تاریخی مذاکرات! اس سے قبل امریکی حکام کب کب پاکستان آئے؟جانیے

اس وقت دنیا بھر کی نگاہیں اسلام آباد پر ہیں جہاں امریکی اور ایرانی وفود اہم مذاکرات کے سلسلے میں موجود ہیں ، جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کرنے کے بعد پاکستان اب ایران اور امریکا کے درمیان نہایت اہم بات چیت کی میزبانی کر رہا ہے، جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی منظرنامے پر بھی دور رس اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ ایک غیر معمولی سفارتی اور تاریخی لمحہ ہے خاص طور پر امریکا کے تناظر میں کیونکہ تقریباً ایک دہائی بعد اعلیٰ سطح کا امریکی وفد ملک پہنچا ہے، جس میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل ہیں۔

یہاں ہم ان تاریخی مواقع پر نظر ڈالیں گے جب امریکی صدور اور نائب صدور نے پاکستان کا دورہ کیا۔

دسمبر 1959ء

1959ء میں دسمبر کی ایک سرد صبح امریکا کے 34 ویں صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور اپنے پاکستانی ہم منصب صدر ایوب خان کی دعوت پر کراچی پہنچے، دونوں رہنماؤں کے درمیان مشرق و مغرب کے تعلقات، سوویت حکمتِ عملی، پاک بھارت تعلقات، سینٹو اتحاد اور افغانستان سمیت کئی امور پر گفتگو ہوئی۔

اس دورے کے بعد امریکا نے پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امداد میں نمایاں اضافہ کیا۔

مئی 1961ء

20 مئی 1961ء کو امریکی نائب صدر لنڈن بی جانسن نے کراچی میں ایک اونٹ گاڑی چلانے والے بشیر احمد سربین سے ملاقات کی، جو ایک تاریخی لمحہ بن گیا، ٹریفک میں رکے قافلے کے دوران جانسن گاڑی سے اترے اور بشیر سے ہاتھ ملایا اور دوستی کی پیشکش کی ، بعد ازاں بشیر کو امریکا مدعو کیا گیا اور یہ تعلق دونوں کی زندگیوں تک برقرار رہا۔

جانسن نے 1967ء میں بطور صدر بھی مختصر دورہ کیا اور ایوب خان سے ملاقات کی۔

اگست 1969ء

یکم اگست 1969ء میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے پاکستان کا دورہ کیا تاکہ صدر یحییٰ خان کے ذریعے چین سے رابطے بحال کیے جا سکیں۔

مئی 1984ء

مئی 1984ء میں امریکی نائب صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے مری میں جنرل ضیاء الحق سے ملاقات کی اور صدر رونالڈ ریگن کا خط پہنچایا، بات چیت میں افغانستان اور ایران عراق جنگ جیسے اہم امور زیرِ بحث آئے۔

مارچ 2000ء

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی برطرفی کے فوراً بعد 25 مارچ 2000ء کو امریکی صدر بل کلنٹن نے پاکستان کا دورہ کیا، وہ 30 سال میں پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر بن گئے، تاہم ان کا 5 گھنٹے کا دورہ کئی وجوہات کی باعث مشہور ہوا۔

دسمبر 2005ء اور فروری 2007ء

امریکی نائب صدر ڈک چینی نے دسمبر 2005ء اور فروری 2007ء میں پاکستان کے دورے کیے، یہ وہ وقت تھا جب امریکا کے بیک ٹو بیک اعلیٰ سطح کے دوروں سے پاکستان عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔

دسمبر 2005ء کے دورے کے دوران جنرل مشرف سے ملاقات میں امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ طویل المدتی بنیادوں پر اپنے کثیر جہتی تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

ڈک چینی نے 8 اکتوبر کے زلزلے کے اثرات پر قابو پانے کی کوششوں کے لیے یکجہتی اور حمایت کا بھی اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں : ناممکن کو ممکن کردکھایا! ایران امریکا ایک میز پر ، دنیا میں پاکستان کی مداح سرائی پر بھارتی میڈیا کی چیخیں

فروری 2007ء میں انہوں نے ایک بار پھر پاکستان کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔

مارچ 2006ء

مارچ 2006ء میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش رات کی تاریکی میں پاکستان پہنچے جس میں سیکیورٹی انتہائی سخت تھی، جبکہ اسلام آباد میں مکمل لاک ڈاؤن تھا۔

اس دورے کے پیچھے دہشتگردی کے خلاف جنگ، اقتصادی شراکت داری اور 2005ء کے زلزلے کیلئے امریکی امداد پرگفتگو شامل تھی، تاہم اس دورے کی خصوصی بات ایک کرکٹ کلینک بھی تھا، جہاں انہوں نے عام پاکستانیوں کے ساتھ جڑنے کی کوشش کرتے ہوئے طلبہ کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کی کوشش کی اور پاکستان کے مایہ ناز کرکٹر انضمام الحق سے ملاقات بھی کی۔

جنوری 2009ء اور جنوری 2011ء

امریکا کے سابق صدر جو بائیڈن نے جنوری 2009ء اور 2011ء میں بطور نائب صدر پاکستان کے دورے کیے، پہلے دورے میں انہوں نے پاکستان کو اہم اتحادی قرار دیا اور صدرمملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی جنہوں نے انہیں ہلالِ پاکستان سے بھی نوازا۔

جنوری 2011ء کے دورے میں امریکی صدربائیڈن نے افغانستان، شدت پسندی اور علاقائی سیکیورٹی کے مسائل پر بات چیت کی۔

یہ تاریخی دورے اس بات کے عکاس ہیں  کہ پاکستان طویل عرصے سے عالمی سفارت کاری میں ایک اہم کردار ادا کرتا آیا ہے اور اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات بھی اسی تسلسل کی ایک نئی اور اہم کڑی ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *