ریاض کے عالمی دفاعی میلے میں پاکستان کی باوقار موجودگی

ریاض کے عالمی دفاعی میلے میں پاکستان کی باوقار موجودگی

تحریر: ایاب احمد

سعودی ہم منصب کی پرخلوص دعوت پر، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ریاض میں منعقدہ ’ورلڈ ڈیفنس شو‘ میں شرکت کی—ایک ایسا ایونٹ جو انتہائی قلیل مدت میں دفاع اور سلامتی کے عالمی افق پر خود کو ایک بااثر ترین پلیٹ فارم کے طور پر منوا چکا ہے۔

رواں برس یہ نمائش محض اپنی وسعت اور پھیلاؤ میں ہی بے پناہ نہیں تھی، بلکہ یہ اپنے دامن میں واضح تزویراتی (Geopolitical) اہمیت بھی سمیٹے ہوئے تھی۔ ریاض کی سرزمین دنیا بھر کے صفِ اول کے دفاعی صنعت کاروں، عسکری قیادت، پالیسی سازوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کا مسکن بن گئی تھی۔

جدید فضائی نظاموں سے لے کر مربوط زمینی پلیٹ فارمز اور بحری صلاحیتوں تک، نمائش کا ہر گوشہ اس سمت کی عکاسی کر رہا تھا جس جانب جدید جنگی اور دفاعی پیداوار کا رخ مڑ رہا ہے۔ سعودی عرب اپنی مقامی پیداوار کے پرعزم منصوبے (Localization Drive) کے ذریعے یہ سندیسہ دے رہا ہے کہ وہ اب دفاعی نظام کا محض ایک خریدار نہیں رہنا چاہتا، بلکہ ایک ’پیداواری اور تزویراتی شراکت دار‘ بننے کا خواہاں ہے۔

اس اعلیٰ سطحی بین الاقوامی ماحول میں، پاکستان کی موجودگی انتہائی پراعتماد، متین اور باوقار دکھائی دی۔ پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کی مشترکہ نمائندگی نے ملک کی دفاعی صلاحیتوں کا ایک مربوط اور انتہائی پیشہ ورانہ عکس پیش کیا۔

نمائش کے دوران پاکستانی پویلین ان مقامات میں شامل تھے جہاں سب سے زیادہ رش دیکھا گیا اور جن کا تذکرہ زبان زدِ عام رہا؛ غیر ملکی وفود، دفاعی تجزیہ کار اور صنعتی نمائندے پاکستانی حکام کے ساتھ گہری اور بامعنی گفتگو میں مصروف نظر آئے۔ توجہ کا ایک خاص مرکز پاکستان کا کثیر المقاصد جنگی طیارہ ’جے ایف-17 تھنڈر‘ تھا، جس میں عالمی خریداروں کی دلچسپی نہ صرف نمایاں تھی بلکہ مسلسل برقرار رہی۔

اس طیارے نے بین الاقوامی منڈیوں میں بتدریج اپنی ساکھ کو مستحکم کیا ہے، اور حالیہ علاقائی پیش رفت نے پاکستان کی آپریشنل تیاریوں اور فضائی صلاحیت کی جانب دنیا کی توجہ مزید مبذول کرائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی اسپنر عثمان طارق کے بولنگ ایکشن سے متعلق اہم خبرآگئی، بھارتی میڈیا پر تبصرے شروع

اس مضبوط موجودگی کے تزویراتی پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی—جس میں پاکستان کا یہ موقف سامنے آیا کہ اس نے فضائی جھڑپوں کے دوران بھارتی ’رافیل‘ (Rafale) طیاروں کو کامیابی سے نشانہ بنا کر مار گرایا اور زمینی محاذ پر بھی فتح حاصل کی—کے بعد ملک کا دفاعی مؤقف عالمی سطح پر مزید اجاگر ہوا ہے۔

پاکستان کے بیانیے میں، اس واقعے نے ڈیٹرنس (باز رکھنے کی صلاحیت) اور آپریشنل مہارت کو مزید پختہ کیا ہے۔ خواہ اسے تزویراتی عینک سے دیکھا جائے یا سیاسی تناظر میں، جنگی تیاری کے اس تاثر نے شو میں پاکستان کی نمائندگی کا وزن بڑھا دیا۔ یہ ایک ایسے ملک کا امیج پیش کرتا ہے جو محض آلات کی نمائش نہیں کرتا، بلکہ انہیں حقیقی جنگی حالات میں استعمال کرنے کا ہنر بھی جانتا ہے۔ جیسا کہ اسلام آباد میں فتح کی پریس کانفرنس کے دوران ایئر وائس مارشل اورنگزیب نے ایک تاریخی جملہ کہا: ”رافیل ایک اچھا طیارہ ہے اگر اسے اچھے طریقے سے آپریٹ کیا جائے۔“

وزیر دفاع نے ذاتی طور پر پاکستان کے کلیدی دفاعی نمائش کنندگان بشمول جی آئی ڈی ایس (GIDS)، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT)، پاکستان آرڈیننس فیکٹریز (POF) اور واہ انڈسٹریز لمیٹڈ کا دورہ کیا۔ ان اداروں کے علاوہ انہوں نے پاکستان سے آئے دیگر نجی کمپنیوں کے سٹالز کا بھی معائنہ کیا؛ ان کی یہ دلچسپی اس بات کی غماز تھی کہ اسلام آباد دفاعی برآمدات کو بڑھانے اور صنعتی رسائی کو وسیع کرنے کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔

وزیر دفاع کے ہمراہ نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور سیکرٹری وزارت دفاعی پیداوار لیفٹیننٹ جنرل (ر) چراغ حیدر بھی موجود تھے، جن کی موجودگی ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سنجیدگی کی عکاس تھی۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ پاکستان کی ’دفاعی سفارت کاری‘ (Defence Diplomacy) آپریشنل قیادت اور پروڈکشن مینجمنٹ کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

ایئر شو کے موقع پر سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے خواجہ آصف سے ملاقات کی، جو گرمجوشی اور باہمی احترام کا مظہر تھی۔ ان کی گفتگو کا محور باہمی تعاون کے شعبے، بدلتے ہوئے سیکیورٹی ڈائنامکس اور گہرے صنعتی اشتراک کے مواقع تھے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل مدتی دفاعی تعلقات ارتقائی مراحل طے کر رہے ہیں، اور اس ملاقات نے اس سفر کو مزید تقویت بخشی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی اسپنر عثمان طارق کے بولنگ ایکشن سے متعلق اہم خبرآگئی، بھارتی میڈیا پر تبصرے شروع

پاکستانی وزیر دفاع نے سعودی دفاعی پیداوار کے اسٹالز کا بھی دورہ کیا اور مقامی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں مملکت کی تیز رفتار ترقی کو سراہا۔ لوکلائزیشن اور تکنیکی خود مختاری کی جانب سعودی عرب کا سفر علاقائی دفاعی منظرنامے کو ازسرنو تشکیل دے رہا ہے۔ پاکستان، جو بری، فضائی اور بحری شعبوں میں دفاعی مینوفیکچرنگ کا دہائیوں پر محیط تجربہ رکھتا ہے، اس کے لیے یہ تبدیلی منظم تعاون کے بامعنی مواقع پیش کرتی ہے۔

’ورلڈ ڈیفنس شو‘ محض جدید ہارڈویئر کی نمائش نہیں تھا، بلکہ یہ وسیع تر تزویراتی تبدیلیوں کا عکاس تھا۔ علاقائی طاقتیں اب ’خود انحصاری‘ (Self-reliance) پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ دفاعی صنعتیں تکنیکی جدت طرازی کا انجن بن رہی ہیں، اور شراکت داریاں اب محض خرید و فروخت کے بجائے مشترکہ پیداوار اور علم کے تبادلے کی بنیاد پر استوار ہو رہی ہیں۔

ایسے ماحول میں، ریاض میں پاکستان کا نمایاں اعتماد گہری معنویت رکھتا تھا۔ ہجوم سے بھرے اسٹالز، جے ایف-17 تھنڈر میں مسلسل دلچسپی، اور اعلیٰ سطحی ملاقاتیں—یہ سب مل کر ایک ایسے ملک کا تاثر ابھارتے ہیں جو بدلتے ہوئے عالمی دفاعی ڈھانچے میں اپنے کردار کا ببانگِ دہل اظہار کر رہا ہے۔

پاک-سعودی تعلقات میں تسلسل کی رمزیہ حیثیت بھی اتنی ہی اہم تھی؛ دفاعی تعاون طویل عرصے سے دو طرفہ تعلقات کا سنگ بنیاد رہا ہے۔ اب جو چیز ابھر کر سامنے آ رہی ہے، وہ اس تعلق کا ایک زیادہ صنعتی اور مستقبل بین (Forward-looking) پہلو ہے۔

قصہ مختصر، ریاض نے دنیا کی دفاعی قیادت کی میزبانی کی، تو پاکستان وہاں اپنے آپریشنل تجربے، صنعتی صلاحیت اور تزویراتی اعتماد کے ساتھ پہنچا۔ نمائش کے دوران ہونے والی بات چیت اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری نہ صرف برقرار ہے بلکہ گہرے تعاون اور مشترکہ عزم کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *