امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت بحال کروانے اور تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے نیٹو سمیت اپنے قریبی عالمی اتحادیوں کے سرد رویے پر گہری مایوسی اور شکوے کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ یہ تجارتی راستہ صرف امریکہ کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن جب اسے محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات اور عسکری تعاون کی ضرورت پڑی تو اہم طاقتوں نے خاموشی اختیار کر لی۔
امریکی انتظامیہ نے خاص طور پر ان ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے اس راستے پر انحصار تو کرتے ہیں لیکن سیکیورٹی اتحاد کا حصہ بننے سے کتراتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے اشاروں میں کہا گیا ہے کہ اتحادیوں کی یہ “عدم دلچسپی” عالمی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کے مترادف ہے، جس سے خطے میں دشمن قوتوں کے حوصلے مزید بلند ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کے یہ شکوے مستقبل میں نیٹو کے اندرونی تعلقات اور دفاعی بجٹ کی تقسیم پر نئے تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ کی تو نیٹو کا مستقبل بہت برا ہوگا ، امریکی صدر ٹرمپ

