صوبہ پنجاب میں بڑھتے ہوئے اخراجات اور توانائی بحران کے پیشِ نظر حکومت نے بڑے پیمانے پر کفایت شعاری اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیرِ خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے اخراجات کم کرنے اور توانائی بچانے کے لیےعملی اقدامات شروع کر دیے ہیں،تفصیلات کے مطابق صوبائی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ دو ماہ کے لیے وزراء تنخواہیں اور ایندھن کی سہولت حاصل نہیں کریں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ گریڈ سترہ سے بائیس تک کے افسران اورارکانِ اسمبلی کی پچیس فیصد تنخواہ ایک مخصوص فنڈ میں جمع کی جائے گی وزیرِ خزانہ کے مطابق یہ اقدامات موجودہ معاشی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں،توانائی کی بچت کے لیے ایک اہم فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ سرکاری دفاتر میں جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو چھٹی ہوگی، یعنی ہفتے میں تین دن تعطیل رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں :سرکاری ملازمین کو ہفتے میں کتنی چھٹیاں ہونگی؟ نوٹیفکیشن جاری
غیر ضروری عملے کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ بجلی اور ایندھن کے استعمال میں کمی لائی جا سکے،حکومت نے سرکاری پروٹوکول کی گاڑیوں کو فوری طور پر بند کرنے، وزراء اور افسران کے بیرونِ ملک دوروں پر مکمل پابندی لگانے اور تمام محکموں کے ایندھن کے بجٹ میں پچاس فیصد کمی کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ ان سخت فیصلوں کے باوجود تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، انہوں نے بتایا کہ مستحق افراد کے لیے راشن کارڈ پروگرام بھی جاری ہے،جس کے تحت لاکھوں خاندانوں کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے، اور اس تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے نئی سرکاری گاڑیوں اور دفاتر کے لیے مہنگی اشیاء کی خریداری پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات میں فوری طور پر پچیس فیصد کمی نافذ کر دی گئی ہے۔

