سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں نئے کرنسی نوٹوں اور سپر ٹیکس سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن اسٹیٹ بینک بورڈ سے منظور ہو چکا ہے اور منظوری کے بعد یہ ڈیزائن وزارت خزانہ کو بھجوا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی حتمی منظوری ملنے کے بعد نئے کرنسی نوٹ جاری کیے جائیں گے، تاہم پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کرنے کی فی الحال کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
اجلاس کے دوران سپر ٹیکس کے معاملے پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ عوام تین سے چار سال کا سپر ٹیکس ایک ساتھ کیسے ادا کریں گے، اس طرزِ عمل سے لوگوں کو ملک سے باہر جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی جانب سے ہراساں کرنے کی شکایات درست نہیں اور فوری ادائیگی کے بجائے سپر ٹیکس کی وصولی دو سے تین سال میں کی جانی چاہیے۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ آئینی عدالت واضح کر چکی ہے کہ سپر ٹیکس عائد کرنا پارلیمان کا اختیار ہے، مگر اس کے باعث عوام پر مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی طبقے پر بار بار ٹیکس لگا کر ریونیو میں اضافہ کسی صورت مؤثر ریونیو ماڈل نہیں ہو سکتا۔
اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ضرورت پڑنے پر بعض کیسز میں سپر ٹیکس کی ادائیگی اقساط میں کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپر ٹیکس کی مجموعی وصولی 217 ارب روپے بنتی ہے، جب کہ ٹیکس دہندگان کو ٹیلی فون پر پیغامات بھیجنے کے بعد ان کی تعداد میں 10 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔