ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور ڈیڈ لائن میں توسیع کی تجویز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو موصول ہو گئی ہے اور اس حوالے سے وہ حکام سے بریفنگ لیں گے۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان وائٹ ہاؤس کیرو لین لیویٹ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور ڈیڈ لائن میں توسیع کی تجویز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو موصول ہو گئی ہے عالمی سطح پر اس پیش رفت کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ تجویز ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب جنگ کے خطرات اپنی انتہا پر تھے۔
صدر ٹرمپ کی فاکس نیوز سے گفتگو
قبل ازیں صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مجوزہ تجاویز پر وہ حکام سے بریفنگ لیں گے اور انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف انکےلیے قابل احترام ہیں۔
پریس سیکرٹری کے مطابق صدر ٹرمپ اس تجویز کے مندرجات اور خطے کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال اس تجویز پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور پوری دنیا صدر ٹرمپ کے جواب کی منتظر ہے۔ وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ صدر اپنے تمام آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور وہ جلد ہی اس حوالے سے اپنا موقف بیان کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پیش کردہ اس تجویز میں صدر ٹرمپ سے ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع اور تمام فریقین سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کی اپیل کی گئی ہے۔ سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ اس تجویز کو قبول کر لیتے ہیں، تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارت کاری کی بہت بڑی جیت ہوگی۔
پاکستان کی اس کوشش کو ایران کی جانب سے بھی مثبت اشارے ملے ہیں، جس کے بعد اب تمام تر نظریں واشنگٹن پر لگی ہوئی ہیں۔ پریس سیکرٹری وائٹ ہاؤس کے بیان نے اس امید کو تقویت دی ہے کہ شاید اب طاقت کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔