قومی ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی ٹی 20 ٹیم کے موجودہ کپتان سلمان علی آغا کو سب سے پہلے قومی ٹیم کے لیے منتخب کرنے کا فیصلہ انہی کا تھا۔
ایک ٹرانسمیشن پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے محمد وسیم نے بتایا کہ ابتدا میں سلمان علی آغا کو ٹیسٹ کرکٹ کے لیے ٹیم میں شامل کیا گیا، بعد ازاں ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں ون ڈے فارمیٹ میں بھی موقع دیا گیا۔
محمد وسیم کے مطابق سلمان علی آغا نے آہستہ آہستہ خود کو ثابت کیا اور مختلف فارمیٹس میں اپنی جگہ مضبوط بنائی۔ انہوں نے کہا کہ سلمان نے پاکستان سپر لیگ میں بھی مسلسل اچھی کارکردگی دکھائی اور اسی تسلسل کے باعث ٹی 20 کرکٹ میں بھی خود کو ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد کھلاڑی کے طور پر منوایا۔ سابق چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ سلمان کی محنت، ڈسپلن اور سیکھنے کی لگن نے انہیں کپتانی تک پہنچایا۔
دوسری جانب پاکستان کے سابق کپتان محمد حفیظ نے بھی سلمان علی آغا کی کپتانی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سرکاری چینل پر بطور کرکٹ مبصر گفتگو کرتے ہوئے محمد حفیظ نے کہا کہ ابتدا میں انہیں بھی سلمان کی بطور کپتان تقرری سمجھ میں نہیں آ رہی تھی، اور عوامی سطح پر اس فیصلے پر خاصی تنقید بھی کی گئی۔
محمد حفیظ نے اعتراف کیا کہ حالیہ دنوں تک وہ خود بھی اس تقرری پر سوالیہ نشان لگائے ہوئے تھے، تاہم وقت کے ساتھ سلمان علی آغا کی سوچ اور رویے نے انہیں متاثر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی فارمیٹ میں جب کھلاڑی ایمانداری اور خلوص کے ساتھ محنت کرتا ہے تو اللہ پاک کی طرف سے اسے اس محنت کا صلہ ضرور ملتا ہے، اور سلمان کو بھی یہی صلہ مل رہا ہے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر نے مزید کہا کہ سلمان علی آغا ’لیڈنگ فرام فرنٹ‘ کے اصول پر عمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ایک کپتان کے لیے نہایت اہم خصوصیت ہے۔ محمد حفیظ کے مطابق بدقسمتی سے ماضی میں پاکستان نے ایسے کپتان بھی دیکھے جو اپنی ذاتی کارکردگی کو چھپانے کی کوشش کرتے تھے اور مشکل حالات میں خود کو آگے لانے سے گریز کرتے تھے۔
محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ سلمان علی آغا ان کپتانوں سے مختلف ہیں، وہ اپنی ایمانداری اور محنت کے بل بوتے پر آگے آ رہے ہیں اور خود کو مشکل حالات میں ڈالنے سے نہیں گھبراتے۔ کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سلمان اسی جذبے اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو وہ پاکستان ٹیم کے لیے ایک مضبوط اور دیرپا لیڈر ثابت ہو سکتے ہیں۔